Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 7 · Chapter 560

حج اور عمرہ کے بیان میں

64. ارکان حج میں تقدیم و تاخیر کا بیان

2 hadiths in this chapter

1945

Sunan Darmi #1945

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: "ارْمِ وَلَا حَرَجَ". قَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ: "انْحَرْ وَلَا حَرَجَ". قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:"افْعَلْ وَلَا حَرَجَ"..

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ کے پاس دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل دریافت کئے جا رہے تھے، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی، فرمایا: ”رمی کر لو کوئی حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے بال منڈا لئے؟ فرمایا: ”جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں“، غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بھی آگے یا پیچھے کرنے کے متعلق پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہی فرمایا: ”اب کر لو کوئی حرج نہیں۔“

1946

Sunan Darmi #1946

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ لِلنَّاسِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ:"لَا حَرَجَ". قَالَ: لَمْ أَشْعُرْ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:"لَا حَرَجَ". فَلَمْ يُسْأَلْ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:"لَا حَرَجَ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَنَا أَقُولُ بِهَذَا، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُشَدِّدُونَ..

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں (جواب دینے کے لئے) کھڑے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈا لئے ہیں؟ فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: مجھے معلوم نہ تھا اور میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ فرمایا: ”کوئی حرج کی بات نہیں“، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس میں تقدیم یا تاخیر ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ ہی فرمایا: ” «لا حرج» “ (کوئی حرج نہیں)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں بھی اسی کا قائل ہوں لیکن کوفہ والے اس بارے میں سختی برتتے ہیں۔