Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 7 · Chapter 556

حج اور عمرہ کے بیان میں

60. وادی کے بیچ سے رمی کر نے اور ہر کنکری کے پھینکتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان

1 hadith in this chapter

1941

Sunan Darmi #1941

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًى، يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ مِنْ ذَاتِ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِي رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا". قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ کی رمی کرتے، جو مسجد منیٰ کے قریب ہے، تو آپ سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت تکبیر کہتے تھے، پھر تھوڑا آگے بڑھتے اور نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرتے رہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمرہ پر آتے (یعنی جمرہ وسطیٰ) اور اس پر بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے تھے، پھر بائیں جانب نشیب کی طرف آتے اور وہاں بھی قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے اور یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد واپس ہو جاتے اور یہاں آپ دعا کے لئے نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا جو اس حدیث کو اپنے والد سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نیز فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔