Sunan Darmi #1931
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمًا كَلَّمَا ابْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ. فَقَالَ:"قَدْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَعَلْتُ كَمَا كَانَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي. قَالَ نَافِعٌ: فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، وَسَعَى لَهُمَا سَعْيًا وَاحِدًا، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ جَمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَأَهَلَّ بِهُمَا جَمِيعًا، فَلَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا يَوْمَ النَّحْرِ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے عبداللہ اور سالم نے اپنے والد سے ان دنوں میں لڑائی سے پہلے گفتگو کی جب کہ حجاج سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اتر پڑا تھا، ان دونوں (بیٹوں) نے کہا: اس سال آپ حج نہ کریں تو کوئی حرج نہیں ہے، ہم کو ڈر ہے کہ آپ اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ نہ ڈال دی جائے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عمرے کی غرض سے نکلے، کفار قریش ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنے اونٹ کو ذبح کیا اور سر منڈایا پھر وہاں سے واپس ہو لئے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرے کا عزم کر چکا ہوں، اگر میرے اور خانہ کعبہ کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو میں طواف کعبہ کر لوں گا، اور اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور میں آپ کے ساتھ تھا، پس انہوں نے (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) ذوالحلیفہ سے عمرے کا احرام باندھا پھر روانہ ہوئے تو کہا: حج و عمرہ کی بات ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ حج کو واجب کرلیا ہے (یعنی حج قران کی نیت کر لی ہے)، نافع نے کہا: پھر انہوں نے ایک طواف اور حج و عمرے کی ایک سعی کی اور قربانی کے دن تک احرام نہیں کھولا، اور وہ کہا کرتے تھے (یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) جو شخص عمرے اور حج کو ملا کر دونوں کے لئے احرام باندھے تو وہ قربانی کے دن تک اس وقت تک حلال نہ ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے حلال نہ ہو جائے (یعنی حج و عمرے سے جب تک فارغ نہ ہو احرام نہ کھولے)۔