Sunan Darmi #1917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى، ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ:"لَا حَرَجَ". ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُفْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ”“؟ قَالَ:"لَا حَرَجَ". قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ:"لَا حَرَجَ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ"..
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی کرنے کے بعد لوگوں کے (سوالات کے جوابات کے) لئے تشریف فرما ہوئے تو ایک صحابی آپ کے پاس آئے اور کہا: کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اونٹ ذبح کرنے سے پہلے بال منڈا دیئے؟ فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، دوسرے صحابی آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے کنکری مارنے سے پہلے طواف (افاضہ) کر لیا؟ فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میدان عرفات کل کا کل (پورا کا پورا) موقف ہے، پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور منیٰ پورا قربان گاہ ہے، اور مکہ کی سب راہیں راستہ اور قربانی کرنے کی جگہ ہیں۔“