Sunan Darmi #1864
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَأَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ، فَطَعَنَهُ وَأَكَلَ مِنْ لَحْمِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَطَعَنْتُهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: "كُلُوا"وَهُمْ مُحْرِمُونَ.
اردو ترجمہ · Urdu
عبدالله بن ابی قتادہ نے بیان کیا کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے (اور دشمنوں کا پتہ لگانے آگے نکل گئے)، ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا، انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا، اس کا نیزے سے شکار کیا اور اس کا گوشت کھایا، ان کا بیان ہے کہ پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے جنگلی گدھا دیکھا تو اس پر نیزه یا تیر پھینک کر شکار کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا: ”کھاؤ“ اور وہ سب حالت احرام میں تھے۔