Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 7 · Chapter 514

حج اور عمرہ کے بیان میں

18. حج تمتع کا بیان

2 hadiths in this chapter

1852

Sunan Darmi #1852

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ يَسْأَلُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ: "كَيْفَ تَقُولُ بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ؟ قَالَ: حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ". فَقَالَ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَنْهَى عَنْهَا، فَأَنْتَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ؟ قَالَ: عُمَرُ خَيْرٌ مِنِّي، وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ.

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عبدالله نوفل نے کہا: جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا، میں نے انہیں سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کرتے ہوئے سنا: آپ عمرے کے بعد حج کے لئے تمتع کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ (یعنی عمرے کے بعد احرام کھول دینے اور آٹھ ذوالحجہ کو حج کے لئے دوبارہ احرام باندھنے کے بارے میں)، انہوں نے کہا: تمتع بہت بہتر و اچھا ہے یعنی افضل ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو اس (تمتع) سے منع کرتے تھے تو کیا تم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو؟ جواب دیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بہتر تھے۔

1853

Sunan Darmi #1853

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَجَّ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي:"أَحَجَجْتَ؟"قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:"كَيْفَ أَهْلَلْتَ؟". قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:"أَحْسَنْتَ، اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ". قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسِي، فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، رُوَيْدًا بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ. فَقُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا، فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا. فَلَمَّا قَدِمَ أَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو میں (یمن سے واپس) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وادی بطحاء) میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے حج کا ارادہ کیا؟“ عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ”تم نے کون سا احرام باندھا؟“ عرض کیا: جیسا آپ نے باندھا، فرمایا: ”تم نے بہت اچھا کیا، اب جاؤ کعبہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کی سعی کرو پھر احرام کھول دو“، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے طواف و سعی صفا و مروہ کی کر لی پھر (اپنے خاندان) بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا جس نے میرے سر کی جوئیں نکالیں (یعنی کنگھی کی)، پھر میں لوگوں کو عمرے کے بعد احرام کھول دینے یعنی تمتع کا فتویٰ دینے لگا، تو ایک شخص نے مجھ سے کہا: اے عبداللہ بن قیس (یہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا نام ہے) اپنے اس فتوے سے توقف کرو، کیونکہ تم کو معلوم نہیں تمہارے بعد امیر المومنین نے نیا حکم دیا ہے، چنانچہ میں نے اعلان کیا کہ: اے لوگو! ہم نے جس کو (تمتع کا) فتویٰ دیا ہے وہ انتظار کرے کیونکہ امیر المومنین تشریف لانے والے ہیں، تم ان کی اقتدا کرنا، پس جب امیر المومنین (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) تشریف لے آئے تو میں نے ان سے اس کا ذکر کیا، فرمایا: واقعہ یہ ہے کہ ہم کتاب اللہ پر عمل کریں، اللہ تعالیٰ نے احرام کی حالت میں رہنے کا حکم دیا ہے «وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ» اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کریں جنہوں نے ہدی کی قربانی تک احرام نہیں کھولا۔