Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 6 · Chapter 494

روزے کے مسائل

54. رمضان کے مہینے میں قیام کی فضیلت کا بیان

3 hadiths in this chapter

1814

Sunan Darmi #1814

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کی راتوں میں نماز تراویح پڑھی ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے، اور جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور نیت اجر و ثواب کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہو اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“

1815

Sunan Darmi #1815

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنْ الشَّهْرِ شَيْئًا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ. قَالَ: فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ. قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ السَّادِسَةُ، لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ، قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، فَقَالَ:"إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ، حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ"، فَلَمَّا كَانَتْ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ، جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ. قُلْنَا: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے کے روزے رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کسی رات میں تراویح نہیں پڑھی یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں (یعنی تئیسویں رات کو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا یعنی تراویح پڑھی یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، پھر جب چھ راتیں باقی تھیں (یعنی چوبیسویں رات کو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہیں کیا، جب پانچویں رات باقی تھی (یعنی پچیسویں شب) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا (تراویح پڑھی) یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم رات کے بقیہ حصہ میں بھی نماز پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی امام کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے“، پھر جب چار راتیں باقی رہ گئیں (چھبیسویں رات) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہیں فرمایا، اس کے بعد جب تین راتیں باقی رہ گئیں، یعنی ستائیسویں شب، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل و عیال (گھر والوں) کو جمع کیا اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا یہاں تک ہم کو ڈر ہوا کہ فلاح فوت ہو جائے گی، ہم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: فلاح سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: سحری کا کھانا، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ دنوں میں قیام نہیں کیا۔

1816

Sunan Darmi #1816

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، نَحْوَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

اس سند سے بھی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔