Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 6 · Chapter 492

روزے کے مسائل

52. ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عمل کی فضیلت کا بیان

2 hadiths in this chapter

1811

Sunan Darmi #1811

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا الْعَمَلُ، فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْ الْعَمَلِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ". قِيلَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:"وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالحجہ کے دس دن کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں اتنی فضیلت نہیں“، پوچھا گیا: کیا جہاد کی بھی اتنی فضیلت نہیں؟ فرمایا: ”ہاں، جہاد بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرے میں ڈال کر نکلا، اور کچھ بھی لے کر واپس نہ آیا۔“ (یعنی جان و مال سب قربان کر دیا)۔

1812

Sunan Darmi #1812

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَصْبَغُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا أَعْظَمَ أَجْرًا، مِنْ خَيْرٍ يَعْمَلُهُ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى". قِيلَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:"وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ". قَالَ: وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ إِذَا دَخَلَ أَيَّامُ الْعَشْرِ، اجْتَهَدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا حَتَّى مَا يَكَادُ يَقْدِرُ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله عزوجل کے نزدیک کوئی نیک عمل اتنا عظیم تر نہیں جتنا عمل بندہ عشرہ اضحیٰ میں کرتا ہے“، عرض کیا گیا: الله عزوجل کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: ”ہاں، اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنا نفس اور مال لے کر (جہاد کے لئے) نکلا اور ان میں سے کچھ بھی ساتھ لے کر واپس نہ آیا۔“ راوی نے کہا: اس لئے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ ذوالحجہ کے شروع عشرے میں عبادت میں اپنی طاقت سے زیادہ محنت کرتے تھے۔