Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 6 · Chapter 441

روزے کے مسائل

1. شک کے دن میں روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان

2 hadiths in this chapter

1720

Sunan Darmi #1720

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: "مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

اردو ترجمہ · Urdu

صلہ بن زفر نے کہا: ہم سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ وہ بھنی ہوئی بکری لے کر آئے اور فرمایا کہ کھاؤ، ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا اور کہا کہ میں روزے سے ہوں، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی شک کے دن میں روزہ رکھے اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔

1721

Sunan Darmi #1721

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: أَصْبَحْتُ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ مِنْ شَعْبَانَ، أَوْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا، فَأَتَيْتُ عِكْرِمَةَ، فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ. فَلَمَّا رَأَيْتُهُ حَلَفَ وَلَا يَسْتَثْنِي، تَقَدَّمْتُ فَعَذَّرْتُ وَإِنَّمَا تَسَحَّرْتُ قُبَيْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قُلْتُ: هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ. فَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ، فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سماک بن حرب نے کہا: میں نے ایسے دن میں صبح کی کہ میرے اوپر (یہ جاننا) مشکل ہو گیا تھا آیا شعبان ہے یا یہ دن رمضان کے مہینہ کا دن ہے، چنانچہ میں نے روزہ رکھ لیا اور میں عکرمہ کے پاس آیا، دیکھا کہ وہ روٹی سبزی کھا رہے ہیں، انہوں نے کہا: آؤ کھانا کھا لو، عرض کیا: میں تو روزے سے ہوں، عکرمہ نے کہا: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، تمہیں روزہ افطار کرنا ہو گا، جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے قسم کھا لی ہے اور ان شاء اللہ بھی نہیں کہا تو میں آگے بڑھا اور ڈٹ کے کھانا کھایا حالانکہ اس سے کچھ دیر قبل میں سحری کر چکا تھا، اس کے بعد میں نے کہا: اب سنایئے آپ کے پاس اس بارے میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑ دو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائے تو (شعبان کے) تیس دن پورے کرو اور رمضان کے استقبال میں پہلے سے روزہ نہ رکھو۔“