Sunan Darmi #1715
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا، فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا، فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ اللَّهِ، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ".
اردو ترجمہ · Urdu
بہز بن حکیم نے اپنے دادا، وہ ان کے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جنگل میں چرنے والے ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون (دو سالہ اوٹنی) زکاة کی دینی ہو گی، اور اونٹ اپنے مقام سے (زکاة سے بچنے کے لئے) الگ الگ نہ کئے جائیں گے۔ جو شخص اجر کی نیت سے زکاة ادا کرے گا اس کو ثواب ملے گا اور جو شخص زکاة کو روکے گا ہم اس سے زکاۃ وصول کر لیں گے۔ اور زکاة روکنے کی سزا میں اس کا آدھا مال بھی لے لیں گے، کیونکہ یہ الله تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض میں سے ایک فریضہ ہے۔ آل محمد کے لئے اس میں سے کچھ بھی حلال نہیں۔“