Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 5 · Chapter 433

زکوٰۃ کے مسائل

31. زکاۃ وصول کرنے والوں کو جو ہدیہ دیا جائے وہ کسی کے لئے ہے؟

1 hadith in this chapter

1707

Sunan Darmi #1707

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الَّذِي لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا؟ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:"أَمَّا بَعْدُ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي؟! فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ: إِنْ كَانَ بَعِيرًا، جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً، جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً، جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ. قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ , فَسَلُوهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوحمید انصاری ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو زکاة کی وصولی کی زمہ داری سونپی، اپنا کام پورا کر کے جب وہ تحصیلدار واپس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو کچھ ہے آپ کے لئے ہے، اور یہ میرے لئے ہدیہ کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں بیٹھے رہتے اور دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟“ پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد منبر پر کھڑے ہوئے، پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر اللہ تعالیٰ کے لائق اس کی تعریف کی پھر فرمایا: ”امابعد، اس عامل کو کیا ہوا ہے جس کو ہم وصولی کے لئے عامل بناتے ہیں تو وہ ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ آپ کے عمل کا حصہ ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے، وہ اپنے باپ اور ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کسی نے اس کام میں خیانت کی تو وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر وہ اونٹ ہو گا تو اسی کو لے کر آئے گا اور وہ آواز نکال رہا ہو گا، اور وہ خیانت اگر گائے کی ہو گی تو اس گائے کو لے کر آئے گا جو اپنی آواز نکالتی ہو گی، اور اگر وہ بکری ہو گی تو اسے لے کر آئے گا اس حال میں کہ وہ ہنہناتی آئے گی، میں نے تبلیغ کر دی (یعنی بات لوگوں تک پہنچا دی)۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم کو آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ اس (حدیث) کو میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی سنا ہے، ان سے پوچھ لو۔