Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 5 · Chapter 427

زکوٰۃ کے مسائل

25. آدمی کے پاس جو کچھ ہو سب کو صدقہ کر دینے کی ممانعت کا بیان

2 hadiths in this chapter

1696

Sunan Darmi #1696

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي، وَأُسَاكِنَكَ، وَأَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُجْزِي عَنْكَ الثُّلُثُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہو گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے قبیلہ کی رہائش گاہ ترک کر کے آپ کے ساتھ سکونت اختیار کر لوں اور اپنے مال سے دست بردار ہو کر اسے اللہ اور رسول کے لئے صدقہ کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری طرف سے اس کا ثلث کافی ہے۔“

1697

Sunan Darmi #1697

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْلَى، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي، قَالَ أَحْمَدُ: فِي بَعْضِ الْمَعَادِنِ، وَهُوَ الصَّوَابُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُذْهَا مِنِّي صَدَقَةً، فَوَاللَّهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:"هَاتِهَا"، مُغْضَبًا، فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَأَوْجَعَهُ أَوْ عَقَرَهُ ثُمَّ، قَالَ: "يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَالِهِ لَا يَمْلِكُ غَيْرَهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ، ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، خُذْ الَّذِي لَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ". فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ وَذَهَبَ. قَالَ أَبُو مُحَمَّد: كَانَ مَالِكٌ يَقُولُ: إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ يَتَصَدَّقُ بِثُلُثِ مَالِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا جو اسے کسی غزوے میں ملا تھا۔ اور احمد (بن خالد) نے کہا کہ کسی سونے کی کان سے حاصل ہوا تھا اور یہ ہی صحیح ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، یہ میری طرف سے صدقہ ہے اور اللہ کی قسم اس کے علاوہ میرے پاس اور کوئی مال نہیں ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف سے آیا اور یہی عرض کیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور یہی عرض کیا تو آپ نے ناراض ہوتے ہوئے کہا: ”لاؤ“، پھر اس سونے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور پھینک دیا جو اگر کسی کے لگ جاتا تو یا تو اسے زخمی کر دیتا یا اچھی ضرب لگا دیتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور اس کے پاس اس مال کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا، پھر وہ اس مال کو صدقہ کر دیتا ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، اصلی صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دینے کے بعد بھی مالدار رہے، چلو اپنا مال لے جاؤ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں“، چنانچہ اس شخص نے وہ انڈے کے برابر سونا اٹھایا اور چلا گیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: جب کوئی آدمی اپنا مال مساکین پر صدقہ کرے تو اپنے مال کا ایک تہائی حصہ صدقہ کرے۔