Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 5 · Chapter 420

زکوٰۃ کے مسائل

18. مانگنے سے بچنے کا بیان

1 hadith in this chapter

1684

Sunan Darmi #1684

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: "مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ، فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ، يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ، يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ، يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے انہیں عطا فرما دیا، انہوں نے پھر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں دے دیا، یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جو کچھ بھی مال و دولت ہے میں اسے تم سے بچا کرنہیں رکھوں گا، مگر جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سوال کرنے سے محفوظ ہی رکھتا ہے (یعنی اس کو مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی) اور جو شخض (سوال سے) بے نیازی برتتا ہے تو الله تعالیٰ اسے بے نیاز (غنی) بنا دیتا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر زور ڈال کر صبر کرتا ہے تو الله تعالیٰ اس کو صبر و استقلال دے دیتا ہے۔ اور کسی کو بھی ایسا عطیہ نہیں دیا گیا ہے جو صبر سے زیادہ بہتر اور بے پایاں ہو۔ (یعنی صبر قدرت کا بہت بہتر اور بے پایاں عطیہ ہے)۔“