Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 5 · Chapter 405

زکوٰۃ کے مسائل

3. جو شخص اونٹ، گائے، بکریوں کی زکاۃ نہ دے اس کی سزا کا بیان

3 hadiths in this chapter

1655

Sunan Darmi #1655

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا، لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:"إِطْرَاقُ فَحْلِهَا، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَمِنْحَتُهَا، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹ والا، گائے والا، بکری والا ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے وہ قیامت کے دن سپاٹ زمین پر بٹھایا جائے گا اور کھروں والا جانور اس کو اپنے کھروں سے روندے گا، اور سینگوں والا اپنے سینگوں سے مارے گا، اور اس دن کوئی جانور بے سینگ یا ٹوٹے ہوئے سینگ کا نہ ہو گا“، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”اس کے نر کو جفتی کے لئے دینا، اور اس کے ڈول کو مانگے پر دینا، اور دودھ پینے کے لئے مانگے پر دینا، اور پانی پر اس کا دوھنا، اور اس کو اللہ کے راستے میں سواری یا سامان لادنے کے لئے دینا۔“

1656

Sunan Darmi #1656

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا، وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ , تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورٍ قَرْنُهَا، وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ، إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ، فَإِذَا أَتَاهُ، فَرَّ مِنْهُ، فَيُنَادِيهِ: خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ. قَالَ: فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَابُدَّ مِنْهُ، سَلَكَ يَدَهُ فِي فَمِهِ فَيَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے ہیں: ”جو اونٹ والا اس کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بہت سے ہو کر آئیں گے اور ان کا مالک سپاٹ زمین پر بٹھا دیا جائے گا اور وہ اس کو اپنے پیروں اور کھروں سے روندیں گے، اور جو گائے والا اس کا حق ادا نہ کرے گا وہ قیامت کے دن بہت سی گائیں بن کر آئیں گی اور اس کو ایک مسطح زمین پر بٹھا دیا جائے گا اور وہ گائیں اسے سینگوں سے ماریں گی اور پیروں سے روندیں گی، اور جو بکری والا اس کا حق ادا نہیں کرتا وہ بھی قیامت کے دن بہت سی ہو کر آئیں گی اور ان کے مالک کو ایک پٹ زمین پر بٹھا دیا جائے گا اور وہ بکریاں اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچل ڈالیں گی، اور اس دن ان میں سے کوئی بے سینگ اور ٹوٹے ہوئے سینگ کی نہ ہو گی، اور جو صاحب خزانہ اس خزانے کا حق ادا نہیں کرتا وہ خزانہ قیامت کے دن گنجا اژدہا بن کر آئے گا منہ کھولے ہوئے (اپنے دنیاوی مالک کا) پیچھا کرے گا، جب وہ اژدہے کی صورت میں (اس مالک) کے پاس پہنچے گا تو وہ بھاگے گا، تو وہ پکارے گا، لے اپنا خزانہ جو تو نے چھپا رکھا تھا، وہ کہے گا: مجھے اس کی حاجت نہیں، پھر جب وہ مالک دیکھے گا کہ یہ اژدہا اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا ہے تو اس کے منہ میں ہاتھ ڈال دے گا اور وہ اسے ایسا چبائے گا جیسے اونٹ چباتا ہے۔“ راوی نے کہا: ابوالزبیر نے کہا: ہم نے عبيد بن عمیر سے سنا، وہ یہی کہتے تھے، پھر ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے بھی عبید بن عمیر ہی کی طرح بتایا، اور ابوالزبیر نے کہا: میں نے عبيد بن عمیر سے سنا کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اونٹی کا کیا حق ہے؟ فرمایا: ”اس کو پانی پر دوہنا، اس کا ڈول عاریتاً دینا اور اس کے نر کو نطفے (جفتی) کے لئے مانگنے پر (بلا اجرت کے) دینا اور الله کی راہ میں اس کو سواری میں دینا۔“

1657

Sunan Darmi #1657

Sahih

(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا، وَمَنْحَتُهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ" أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھلی حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔