Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 3 · Chapter 321

نماز کے مسائل

143. عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1472

Sunan Darmi #1472

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، وَمَسْرُوقًا، يَشْهَدَانِ عَلَى عَائِشَةَ، أَنَّهَا شَهِدَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهَا يَوْمًا إِلَّا "صَلَّى هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: تَعْنِي: بَعْدَ الْعَصْرِ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابواسحاق نے کہا: میں نے اسود بن یزید اور مسروق سے سنا، انہوں نے گواہی دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے گھر میں تشریف لاتے تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ان کی مراد عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں تھیں۔

1473

Sunan Darmi #1473

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔

1474

Sunan Darmi #1474

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا:"اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهِمَا. قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ. فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ. فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ. فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا، فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي: أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا؟ فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:"يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ". سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: أَنَا أَقُولُ بِحَدِيثِ عُمَرَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".

اردو ترجمہ · Urdu

کریب (ابن عباس کے آزاد کردہ غلام) سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس، سیدنا عبدالرحمٰن بن الازہر، اور سیدنا سعود بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ آپ بھی یہ رکعت پڑھتی ہیں حالانکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اور عصر کے بعد نماز پڑھنے پر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو مارا تھا، کریب نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو ان لوگوں کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے کہا: جاؤ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو، چنانچہ میں ان لوگوں کے پاس واپس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب سنا دیا، پھر انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہی پیغام لے کر بھیجا جو پیغام لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے روکتے تھے لیکن ایک دن میں نے آپ کو عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں رکعتیں پڑھیں تو آپ نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے لونڈی سے کہا: جاؤ آپ کے پاس کھڑی ہو جانا اور کہنا کہ ام سلمہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کو ان سے ممانعت کرتے سنا ہے، پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ آپ خود پڑھ رہے ہیں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کریں تو تھوڑا ٹھہر جانا، چنانچہ لونڈی نے ایسا ہی کیا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ سے پیچھے ہٹ کر ٹھہر گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے بارے میں پوچھا؟ بات یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ اسلام لانے کے لئے آ گئے تھے اور ان کے ساتھ گفتگو کرنے میں میں ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا تھا، سو یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس حدیث کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا: میری رائے وہی ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے: «لا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس ولا بعد الفجر حتى تطلع الشمس» - ترجمہ کے لئے دیکھئے: رقم (1471)۔