Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 3 · Chapter 295

نماز کے مسائل

117. مسجد میں سونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1437

Sunan Darmi #1437

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّئلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، قَالَ: "أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ؟"قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مسجد (نبوی) میں سویا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اپنے پائے مبارک سے مجھے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں یہاں سوتے نہیں دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میری آنکھ لگ گئی تھی۔

1438

Sunan Darmi #1438

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ فِيهَا رِجَالٌ مُعَلَّقُونَ، فَقِيلَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى ذَاتِ الْيَمِينِ. فَذَكَرْتُ الرُّؤْيَا لِحَفْصَةَ، فَقُلْتُ: قُصِّيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّتْهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:"مَنْ رَأَى هَذِهِ؟ قَالَتْ: ابْنُ عُمَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نِعْمَ الْفَتَى أَوْ قَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ". قَالَ: وَكُنْتُ إِذَا نِمْتُ لَمْ أَقُمْ حَتَّى أُصْبِحَ. قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي اللَّيْلَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں مسجد نبوی میں سویا کرتا تھا کیونکہ بیوی بچے تھے نہیں، میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ مجھے ایک کنویں کی طرف لے جایا گیا، جس میں آدمی لٹکے ہوئے تھے۔ کہا گیا: ان کو دائیں جانب لے جاؤ (یعنی جنتیوں کی طرف)، میں نے اس خواب کو (اپنی بہن) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا اور درخواست کی کہ اس کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کریں، لہٰذا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے یہ خواب دیکھا ہے؟“ عرض کیا: (میرے بھائی) ابن عمر نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھا وہ نوجوان ہے“ یا یہ کہا: ”کیا ہی اچھا آدمی ہے، کاش وہ رات میں نماز پڑھے“، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں جب سو جاتا تو فجر سے پہلےنہیں اٹھتا تھا۔ راوی نے کہا: اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تہجد پڑھنے لگے تھے۔