Sunan Darmi #1405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَإِذَا رَجُلَانِ حِينَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدَانِ فِي نَاحِيَةٍ لَمْ يُصَلِّيَا، قَالَ: فَدَعَاهُمَا، فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا. قَالَ:"مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا؟"قَالَا: صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ:"فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الْإِمَامَ، فَصَلِّيَا فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ". قَالَ: فَقَامَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي، فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ.
اردو ترجمہ · Urdu
جابر بن یزید بن اسود اپنے والد (سیدنا یزید رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے دوران دو آدمی ایک کونے میں بیٹھے رہے، نماز نہیں پڑھی۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، ان کو لایا گیا اس حال میں کہ وہ کانپ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ دونوں نے عرض کیا: ہم نے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لی تھی، فرمایا: ”آئندہ ایسے نہ بیٹھنا، جب تم گھر میں نماز پڑھ لو، پھر امام کو نماز پڑھتے پاؤ تو امام کے ساتھ نماز پڑھو، اور وہ (گھر کی نماز) تمہارے لئے نفلی نماز ہو گی“، سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد لوگ اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو پکڑتے اور پھر اپنے منہ پر پھیر لیتے۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو تھاما اور اپنے چہرے پر پھیر لیا جو کہ برف سے زیادہ سرد اور مشک کی خوشبو سے زیادہ اچھا تھا۔