Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 3 · Chapter 270

نماز کے مسائل

92. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ

3 hadiths in this chapter

1394

Sunan Darmi #1394

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالُوا: لِمَ؟ فَمَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً؟ قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرُ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، وَلَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ يَظُنُّ أَبُو عَاصِمٍ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا، حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ، كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ السَّجْدَةُ أَوْ الْقَعْدَةُ الَّتِي يَكُونُ فِيهَا التَّسْلِيمُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ". قَالَ: قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کے ساتھ تھے، ان میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تم سب سے زیادہ علم ہے۔ انہوں نے کہا: ایسا کیوں؟ تم ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کرنے والے اور ہم سے زیادہ آپ کے ساتھ رہنے والے نہیں ہو؟ کہا: ہاں، ایسا ہی ہے، انہوں نے کہا: تو پھر پیش کیجئیے؟ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، پھر اللہ اکبر کہتے یہاں تک کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے، پھر آپ قرأت کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے پھر رکوع میں جاتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی اصلی حالت پر آ جاتی اور (رکوع میں) نہ سر کو اٹھاتے تھے اور نہ جھکاتے تھے (پیٹھ کے برابر رکھتے)، پھر اپنا سر (رکوع سے) اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ ابوعاصم کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے اس وقت بھی انہوں نے کہا: (رکوع سے اٹھ کر کھڑے رہتے) یہاں تک کہ ہر ہڈی (جوڑ) اپنی جگہ (اصلی حالت) پر آ جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الله اکبر کہتے اور سجدے میں چلے جاتے اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ (بازو) پہلو سے دور رکھتے، پھر سجدے سے سر اٹھاتے اور بایاں قدم موڑ کر اس پر بیٹھتے، اور جب سجدہ کرتے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر دوسرا سجدہ کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھاتے اور بایاں پیر موڑ کر اس پر اچھی طرح بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی (جوڑ) اپنی اصلی حالت پر آ جاتی (یعنی باطمینان جلسہ استراحت فرماتے)، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، اور جب تیسری رکعت کے لئے قیام فرماتے تو پھر رفع یدین کندھوں تک کرتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر اپنی نماز اسی طرح پوری فرماتے تھے حتی کہ جب آخری تشہد یا قعدہ جس میں سلام پھیرنا ہوتا ہے بیٹھتے تو بایاں قدم کو (دایاں پیر کے نیچے سے) نکالتے اور بائیں جانب پر تورک کرتے ہوئے بیٹھتے۔ راوی نے کہا: ان دسوں صحابہ نے کہا: تم نے بالکل سچ کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بالکل یہی طریقہ تھا۔

1395

Sunan Darmi #1395

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ "فَقَامَ فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، قَالَ: ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ، فَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا، يَدْعُو بِهَا". قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ عَلَى النَّاسِ جُلَّ الثِّيَابِ يُحَرِّكُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دل میں ٹھانی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا: کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے (یعنی رفع یدین کیا)، اور اپنا دایاں ہاتھ بایاں پنجے کے اوپر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع کا ارادہ فرمایا تو اپنے ہاتھ اسی طرح اٹھائے (رفع یدین کیا) اور (رکوع میں) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا تو اپنے ہاتھ کو کانوں کے برابر رکھا، پھر (سجدے سے اٹھ کر) بیٹھے تو بایاں پیر (قدم) کو بچھا دیا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران اور بائیں گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا، پھر دو انگلیوں (یعنی انگوٹھا اور بیچ کی انگلی) کو موڑ کر حلقہ بنایا اور شہادت کی انگلی کو کھڑا رکھا۔ میں نے دیکھا آپ اسے حرکت دے رہے تھے گویا کہ اشارے سے دعا کر رہے ہیں۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں کافی عرصے کے بعد سردیوں میں آیا تو دیکھا لوگ چادر میں (ملبوس) ہیں اور (رفع یدین کے لئے) چادر کے اندر اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں۔

1396

Sunan Darmi #1396

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى: إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعِشيِّ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ: أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ، قَالَ: أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا؟ قَالَ: مَا أَنَا قُلْتُهَا، وَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَوَ مَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا. قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ، فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمْ اللَّهُ، فَإِذَا كَبَّرَ، وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا، وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَوْ قَالَ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ، فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

حطان بن عبداللہ رقاشی نے کہا: سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ہم کو دو عشاء میں سے ایک نماز (یعنی مغرب یا عشاء) پڑھائی تو جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا: نماز نیکی اور زکاة کے ساتھ فرض کی گئی ہے، جب سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: یہ بات کس نے کہی ہے؟ سب لوگ خاموش رہے تو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حطان! یہ بات شاید تم نے ہی کہی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، میں نے یہ (نماز نیکی کے ساتھ فرض کی گئی ہے) نہیں کہا، اور میں کیسے کہتا مجھے تو خوف لاحق تھا کہ آپ (میری سرزنش کریں گے) مجھ سے ناراض ہو جائیں گے، ایک آدمی نے کہا: یہ کلمہ میں نے کہا تھا اور میرا ارادہ خیر کا ہی تھا یعنی آدمی نماز پڑھے تو نیکی بھی کرے زکاۃ بھی دے (واللہ اعلم)، پھر سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں پتہ نہیں ہے تم اپنی نماز میں کیا کہہ جاتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ہم کو نماز سکھلائی اور اپنی سنت بیان فرمائی۔ راوی نے کہا: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت ہو تو تم میں سے کوئی ایک امامت کرائے، پس جب وہ امام «الله اكبر» کہے تم بھی «الله اكبر» کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو الله قبول کرے گا، پھر جب وہ «الله اكبر» کہے اور رکوع کرے تم بھی «الله اكبر» کہو اور رکوع میں چلے جاؤ، دھیان رہے کہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اورتم امام کی اتباع میں بعد میں رکوع میں جاؤ گے اور رکوع سے سر اٹھاؤ گے، امام تم سے پہلے (رکوع سے) سر اٹھائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ایسا کرنا امام کے رکوع وغیرہ ہی کے مطابق ہے، پس جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو“ یا یہ کہا کہ ” «ربنا لك الحمد» کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان میں کہا ہے «سمع الله لمن حمده» (یعنی اللہ نے اس کی دعا سن لی یا قبول کر لی جس نے اس کی تعریف کی)، پھر جب امام «الله اكبر» کہہ کر سجدے میں جائے تو تم بھی (اس کے بعد) «الله اكبر» کہو اور سجدے میں چلے جاؤ، امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے سجدے سے سر اٹھائے گا“، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ایسا کرے تو تم بھی ویسا ہی کرو، پھر جب امام (تشہد) قعدہ میں بیٹھے تو تم سب سے پہلے «اَلتَّحِيَّاتُ اَلطَّيِّبَاتُ اَلصَّلَوَاتُ لِلّٰھِ السَّلَامُ»، یا: «سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ»، یا: «سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» کہو۔“