Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 3 · Chapter 256

نماز کے مسائل

78. جو رکوع و سجود صحیح طریقے سے نہ کرے اس کا بیان

3 hadiths in this chapter

1364

Sunan Darmi #1364

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ هُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی نماز درست نہیں ہوتی ہے جب تک کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ کو درست نہ رکھے۔“

1365

Sunan Darmi #1365

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ:"لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوری کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! نماز کی چوری کو ئی کس طرح کر سکتا ہے؟ فرمایا: ”رکوع و سجدہ پوری (صحیح) طرح نہ کرے۔“

1366

Sunan Darmi #1366

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَكَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكُ ابْنَيْ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالُوا: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ، شَكَّ هَمَّامٌ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ". فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى، وَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلَاتَهُ، لَا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ". قَالَ هَمَّامٌ: فَلَا أَدْرِي أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ الرَّجُلُ: مَا أَلَوْتُ، فَلَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ، فَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ، فَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ، قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ: جَبْهَتَهُ مِنْ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ، فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ، لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا رفاعہ اور مالک رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جو دونوں بھائی رافع کے بیٹے اور اہل بدر میں سے تھے، انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے یا یہ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور ہم آپ کے ارد گرد تھے (یہ شک ہمام کو ہوا) کہ اچانک ایک آدمی داخل ہوا اور قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب نماز پڑھ لی تو آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور موجود لوگوں سے سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں وعلیک کہا اور فرمایا: ”جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تمہاری نماز نہیں ہوئی“، چنانچہ وہ شخص واپس گیا اور نماز پڑھنے لگا، ہم غور سے اس کی نماز کو دیکھ رہے تھے، ہم نہیں جان سکے کہ اس کی نماز میں کیا نقص تھا، پھر جب وہ نماز پڑھ چکا تو آیا اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم و دیگر اشخاص سے سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیک کہا اور فرمایا: ”جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تمہاری نماز نہیں ہوئی“، ہمام نے کہا: پتہ نہیں دو بار آپ نے اسے نماز لوٹانے کے لئے کہا یا تین بار، پھر اس شخص نے کہا: میں نے تو درست نماز پڑھنے میں کسر نہ چھوڑی، پتہ نہیں آپ نے میری نماز میں کیا عیب یا نقص ملاحظہ فرمایا، تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وضوء پورا نہ کرے، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے، پس اپنا منہ دھوئے اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کرے اور ٹخنوں تک اپنے دونوں پیر دھوئے، پھر تکبیر کہے، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے، پھر جتنا ہو سکے قرآن پڑھے (یعنی جس قدر اس بارے میں اللہ عز و جل نے اجازت دی ہے)، پھر تکبیر کہے پس رکوع کرے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے یہاں تک کہ تمام جوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے ہو جائیں، (رکوع سے اٹھتے ہوئے) «سمع الله لمن حمده» کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے، کمر بھی سیدھی ہو جائے اور ہر جوڑ (ہڈی) اپنی جگہ پر آ جائے، پھر الله اکبر کہہ کر سجدہ کرے اور اپنے چہرے کو زمین پر جما دے“، ہمام نے کہا: اور کبھی یہ کہا: ”پیشانی زمین پر رکھ دے یہاں تک کہ تمام جوڑ آرام پا کر ڈھیلے ہو جائیں، پھر اللہ اکبر کہے اور ٹھیک سے بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ کو سیدھا کر لے“، اس طرح چار رکعت کا طریقہ بتایا، جب بتا چکے تو فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہ ہو گی جب تک ایسا نہ کرے۔“