Sunan Darmi #1331
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ، فَجَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ، وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى، ثُمَّ ذَهَبَ، فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا يَنَالُ مِنْهُ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ: "فَاتِنًا، فَاتِنًا، فَاتِنًا، أَوْ فَتَّانًا، فَتَّانًا، فَتَّانًا، ثُمَّ أَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: نَأْخُذُ بِهَذَا.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آ کر اپنی قوم (قبیلے کے لوگوں) کو نماز پڑھاتے، ایک رات آ کر عشاء کی نماز میں سورۂ بقرۃ پڑھ ڈالی تو انصار میں سے ایک آدمی آیا اور نماز پڑھی (صحیح بخاری میں ہے کہ اس نے نماز توڑی اور الگ نماز پڑھی) پھر اسے معلوم ہوا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کو برا بھلا کہا ہے، لہٰذا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”فتنہ میں ڈالنے والے ہو، فتنے میں ڈالنے والے ہو، فتنے میں ڈالنے والے ہو“ ( «فاتنًا» کہا یا «فتانًا»)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اوساط مفصل سے بس دو سورتیں پڑھا کریں، یعنی: «﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾، ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ كما فى البخاري»، ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہم اسی کے قائل ہیں۔