Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 3 · Chapter 237

نماز کے مسائل

60. مساجد کی طرف (دور سے) جانے کی فضیلت

1 hadith in this chapter

1319

Sunan Darmi #1319

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ لَا أَعْلَمُ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي إِلَى الْقِبْلَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ يُصَلَّي الصَّلَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ ابْتَعْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظَّلْمَاءِ؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي بِلِزْقِ الْمَسْجِدِ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْمَا يُكْتَبَ أَثَرِي وَخُطَايَ، وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي، وَإِقْبَالِي وَإِدْبَارِي، أَوْ كَمَا قَالَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَأَعْطَاكَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ"أَوْ كَمَا قَالَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے علم میں مدینے کے لوگوں میں نمازیوں میں سے کسی کا مکان مسجد (نبوی) سے اتنا دور نہ تھا جتنا ایک شخص کا تھا، (اس کے باوجود) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام نمازوں میں حاضر ہوتا تھا (یعنی جماعت سے کوئی نماز ناغہ نہ ہوتی تھی) اس سے کہا گیا: اگر تم گدھا خرید لو اور گرمی و اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آیا کرو تو مناسب ہے، اس نے جواب دیا: الله کی قسم مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد (نبوی) سے لگا ہوا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (میں نے ایسا اس لئے کہا) تاکہ میرے نامۂ اعمال میں میرے نقش قدم اور اہل و عیال کی طرف واپسی اور میرا آنا جانا سب لکھا جائے (اور مجھے اس کا ثواب ملے)، یا اس جیسے الفاظ کہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیت کے مطابق تمہیں یہ سب کچھ عنایت فرما دیا۔“ (یا اس جیسا جملہ کہا)۔