Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 3 · Chapter 214

نماز کے مسائل

37. قیام کے دوران دو بار خاموش رہنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1277

Sunan Darmi #1277

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ: إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ"، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أَنْ قَدْ صَدَقَ سَمُرَةُ. قَالَ أَبُو مُحَمَّد: كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: ثَلَاثُ سَكَتَاتٍ، وَفِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ سَكْتَتَانِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) دو جگہ خاموش رہتے (یعنی سکتہ کرتے) تھے، جس وقت نماز میں داخل ہوتے (یعنی دعائے استفتاح کے وقت)، دوسرا سکتہ قراءت سے فراغت کے وقت (یعنی رکوع سے پہلے)، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس بات پر ان کا انکار کیا تو لوگوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس (یہ مسئلہ) لکھ کر بھیجا تو انہوں نے جواب دیا کہ سمرة نے صحیح کہا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: قتادہ رحمہ اللہ تین مرتبہ سکتہ کرنے کو کہتے تھے (یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، پھر فاتحہ کے بعد، پھر قرأت کے اختتام پر رکوع سے پہلے)۔ (سفر السعادات میں بھی ایسا ہی ہے، اس لئے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد سکتے کے دوران مقتدی سورۂ فاتحہ پڑھ لیں) لیکن مرفوع حدیث میں دو بار ہی سکتے کا بیان ہے۔

1278

Sunan Darmi #1278

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً حَسِبْتُهُ قَالَ: هُنَيَّةً فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَقُولُ: "اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ. اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ. اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر (تحریمہ) اور قرأت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «اسكاتة» کے ساتھ «هنية» کہا۔ میں (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فدا، آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان کی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا: ”میں پڑھتا ہوں: «اللهم باعد .. والماء البارد» یعنی: ”اے اللہ میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی دوری تو نے مشرق و مغرب میں کی ہے، اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ میرے گناہوں کو برف اور ٹھنڈے پانی سے دھو ڈال۔“