Sunan Darmi #1225
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ، أَنَّ"سَعْدًا كَانَ يُؤَذِّنُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ", قَالَ حَفْصٌ: حَدَّثَنِي أَهْلِي، أَنَّ بِلَالًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالُوا: إِنَّهُ نَائِمٌ، "فَنَادَى بِلَالٌ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ، فَأُقِرَّتْ فِي أَذَانِ صَلَاةِ الْفَجْرِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُقَالُ: سَعْدٌ الْقَرَظُ.
اردو ترجمہ · Urdu
حفص بن عمر بن سعد موذن سے مروی ہے کہ سعد مسجد نبوی میں اذان دیا کرتے تھے۔ حفص نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھ سے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کے لئے بلانے آئے، لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے ہیں، بلال نے بلند آواز سے کہا: «الصلاة خير من النوم» ”نماز نیند سے بہتر ہے“، لہٰذا یہ کلمہ اذان فجر میں شامل کر دیا گیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: سعد کو سعد القرظ کہا جاتا تھا۔