Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 25 · Chapter 1348

قرآن کے فضائل

15. سورہ البقرہ اور آل عمران کی فضیلت کا بیان

4 hadiths in this chapter

3423

Sunan Darmi #3423

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا بَشِيرٌ هُوَ ابْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ، وَإِنَّهُمَا تُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ: غَيَايَتَانِ، أَوْ: فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ، فَيَقُولُ: أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ، فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا الدُّنْيَا، فَيَقُولَانِ: بِمَ كُسِينَا هَذَا؟ وَيُقَالُ لَهُمَا: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا، فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ، أَوْ تَرْتِيلًا".

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”سورہ بقرہ کو سیکھو، اس کو حاصل کرنا (یعنی پڑھنا) باعث برکت اور ترک کرنا حسرت ہے، اور جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: ”سورہ البقرہ اور آل عمران کا علم حاصل کرو، یہ دونوں سورتیں چمکیلی ہیں اور قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر سایہ کئے ہوں گی جیسے کہ دو بادل ہیں یا سائبان ہیں، یا اڑتے ہوئے پرندوں کی دو ٹکڑیاں ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت کرتی (دفاع کرتی) ہوئی آئیں گی، اور قیامت کے دن قرآن پاک اپنے پڑھنے والے کے پاس جب وہ قبر سے اٹھےگا، تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا (جس کا بیماری اور سفر کی وجہ سے رنگ بدل گیا ہو) اور قرآن اس سے کہے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ جواب دے گا: نہیں، قرآن کہے گا: میں قرآن تمہارا وہ ساتھی ہوں جس نے گرمی کی دوپہر میں تمہیں پیاسا رکھا (یعنی پیاس میں بھی قرآن پڑھتے رہے)، راتوں کو تمہیں جگایا، جب کہ ہر تجارت پیشہ آدمی اپنی تجارت میں لگے تھے، لیکن آج تم ہر قسم کی تجارت کے پیچھے ہو، پھر اس کو داہنے ہاتھ میں ملک عطا ہو گی اور بایاں ہاتھ میں خلد بریں، اور اس کے سر پر وقار کا تاج پہنایا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو ایسے لباس پہنائے جائیں گے جو دنیا کے لحاظ سے انمول ہوں گے، وہ دونوں ماں باپ کہیں گے: یہ لباس ہم کو کیوں پہنائے گئے ہیں؟ ان کو جواب دیا جائے گا: تمہارے بیٹے کے قرآن یاد کرنے کی وجہ سے ہے، پھر اس (حافظ قرآن) سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتے جاؤ اور جنت کی سیڑھی و بالا خانوں پر چڑھتے جاؤ، چنانچہ وہ ہذا یا ترتیلا جس طرح بھی پڑھے جب تک پڑھتا رہے گا چڑھتارہے گا۔“

3424

Sunan Darmi #3424

Zaeef

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "إِنَّ أَخًا لَكُمْ أُرِيَ فِي الْمَنَامِ أَنَّ النَّاسَ يَسْلُكُونَ فِي صَدْعِ جَبَلٍ وَعْرٍ طَوِيلٍ، وَعَلَى رَأْسِ الْجَبَلِ شَجَرَتَانِ خَضْرَاوَانِ تَهْتِفَانِ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ؟ هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَقْرَأُ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ؟ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ، دَنَتَا بِأَعْذَاقِهِمَا حَتَّى يَتَعَلَّقَ بِهِمَا، فَتَخْطِرَانِ بِهِ الْجَبَلَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْأَعْذَاقُ: الْأَغْصَانُ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابویحییٰ سلیم بن عامر سے مروی ہے، انہوں نے ابوامامہ سے سنا، وہ کہتے تھے: تمہارے ایک بھائی نے خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک پہاڑ کی کی لمبی وحشت ناک دراڑ میں چل رہے ہیں، اور پہاڑ کی چوٹی پر دو ہرے بھرے درخت ہیں جو آواز لگا رہے ہیں: تم میں سے ایسا کوئی ہے جو سورہ بقرہ پڑھتا ہے؟ تم میں سے کوئی ہے جو سورہ آل عمران پڑھتا ہے؟ پس اگر کسی آدمی نے اثبات میں جواب دیا تو وہ دونوں درخت اس کے لئے اپنی شاخیں قریب کر دیتے ہیں جن کو پکڑ کر وہ شخص اکڑتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اعذاق و اغصان (یعنی ٹہنی اور شاخوں) کو کہتے ہیں۔

3425

Sunan Darmi #3425

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:"قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، فَقَالَ: قَرَأْتَ سُورَتَيْنِ فِيهِمَا اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ، أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى".

اردو ترجمہ · Urdu

مسروق سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی نے سورہ بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کی تو انہوں نے کہا: تم نے ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جن میں الله تعالیٰ کا وہ اسم اعظم ہے کہ اس نام کو لے کر اگر دعا کی جائے تو وہ قبول ہو، اور اگر کچھ مانگا جائے تو عطا ہو۔

3426

Sunan Darmi #3426

Zaeef

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَطَّافٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، جَاءَتَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَقُولَانِ: رَبَّنَا لَا سَبِيلَ عَلَيْهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوعطاف سے مروی ہے، سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص نے سورہ بقرہ اور آل عمران کا ورد رکھا تو یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن آ کر اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گی: اے ہمارے رب! اس کو مشکل و مصیبت میں نہ ڈال۔