Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 25 · Chapter 1344

قرآن کے فضائل

11. اس کی فضیلت جو قرآن پڑھے اور وہ اس پر دشوار ہو

2 hadiths in this chapter

3400

Sunan Darmi #3400

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ، فَهُوَ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر (یعنی حافظ) ہے تو وہ مکرم، نیک لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا، اور جو قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنا اس پر دشوار ہوتا ہے تو اس کے لئے ڈبل اجر ہے۔“ (ایک اجر قرآن کی تلاوت کا اور ایک اجر تلاوت میں مشقت برداشت کرنے کا)۔

3401

Sunan Darmi #3401

See Details

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَهْبٍ الذِّمَارِيِّ، قَالَ: "مَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، وَمَاتَ عَلَى الطَّاعَةِ، بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ وَالْأَحْكَامِ. قَالَ سَعِيدٌ: السَّفَرَةُ: الْمَلَائِكَةُ، وَالْأَحْكَامُ: الْأَنْبِيَاءُ، قَالَ: وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا وَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ، وَهُوَ لَا يَدَعُهُ، أُوتِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ، وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ حَرِيصًا وَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ وَمَاتَ عَلَى الطَّاعَةِ، فَهُوَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ، وَفُضِّلُوا عَلَى النَّاسِ، كَمَا فُضِّلَتْ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطَّيْرِ، وَكَمَا فُضِّلَتْ مَرْجَةٌ خَضْرَاءُ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنْ الْبِقَاعِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا يَتْلُونَ كِتَابِي لَمْ يُلْهِهِمْ اتِّبَاعُ الْأَنْعَامِ؟ فَيُعْطَى الْخُلْدَ وَالنَّعِيمَ، فَإِنْ كَانَ أَبَوَاهُ مَاتَا عَلَى الطَّاعَةِ، جُعِلَ عَلَى رُءُوسِهِمَا تَاجُ الْمُلْكِ، فَيَقُولَانِ: رَبَّنَا مَا بَلَغَتْ هَذَا أَعْمَالُنَا؟ فَيَقُولان: بَلَى، إِنَّ ابْنَكُمَا كَانَ يَتْلُو كِتَابِي".

اردو ترجمہ · Urdu

وہب الذماری نے کہا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطاء فرمائی اور وہ اس کو صبح و شام پڑھے، اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرے، اطاعت و فرماں برداری پر ہی اسے موت آئے، ایسے شخص کو الله تعالیٰ قیامت کے دن «سفره» اور «احكام» کے ساتھ اٹھائے گا۔ سعید بن عبدالعزیز نے کہا: «سفره» سے مراد: فرشتے، اور «احكام» سے مراد انبیاء ہیں، وہب نے کہا: اور جو کوئی قرآن پاک یاد کرنے پر حریص رہا لیکن وہ اسے بھول جاتا ہے اور وہ اسے چھوڑتا بھی نہیں (یعنی پڑھتا رہتا ہے) اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جو قرآن یاد کرنے کا حریص ہو اور اسے بھول جاتا ہو لیکن وہ اطاعت و فرماں برداری کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو تو ایسے لوگ باعزت لوگ ہیں اور ان کی فضیلت و بزرگی لوگوں پر ایسی ہے جیسے تمام پرندوں پر نسور (گدھ) بھاری ہے، یا جیسے ہری بھری چراگاہ کی فضیلت اس کے اردگرد کی (بنجر) زمین پر ہے، پھر جب قیامت کا دن ہو گا تو کہا جائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری کتاب کی تلاوت کیا کرتے تھے اور چوپائے چرانے (یعنی دنیا کی مصروفیات) نے انہیں غافل نہ کیا، ایسے شخص کو جنت اور اس میں ہمیشگی عطا کی جائے گی، اگر ایسے شخص کے والدین بھی اطاعت و فرماں برداری پر جاں بحق ہوئے تو ان کے سروں پر تاج الملک پہنایا جائے گا، وہ دونوں کہیں گے: اے ہمارے پروردگار ہمارے اعمال تو اتنے اچھے نہ تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں یہ اس لئے ہے کہ تمہارا بیٹا میری کتاب کی تلاوت کرتا تھا۔