Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 24 · Chapter 1326

وصیت کے مسائل

38. نوعمر لڑکے کی وصیت کا بیان

10 hadiths in this chapter

3314

Sunan Darmi #3314

Hasan

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، أنبأنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنَّهُ "أَجَازَ وَصِيَّةَ ابْنِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً".

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے تیرہ سال کے لڑکے کی وصیت کو جائز قرار دیا۔

3315

Sunan Darmi #3315

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ:"أَوْصَى غُلَامٌ مِنْ الْحَيِّ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ، جَازَتْ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُعْجِبُنِي، وَالْقُضَاةُ لَا يُجِيزُونَ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابواسحاق نے کہا: ایک قبیلے کے سات سالہ لڑکے نے وصیت کی تو قاضی شریح نے کہا: اگر وصیت صحیح ہے تو جائز ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ رائے مجھے پسند ہے لیکن قاضی حضرات اس کو جائز نہیں گردانتے ہیں۔

3316

Sunan Darmi #3316

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق أَنَّهُ"شَهِدَ شُرَيْحًا أَجَازَ وَصِيَّةَ عَبَّاسِ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ مَرْثَدٍ لِظِئْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ"، وَعَبَّاسٌ صَبِيٌّ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابواسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا کہ وہ قاضی شریح کے پاس تھے، انہوں نے عباس بن اسماعیل بن مرثد کی اہلِ حیرہ کی دایہ کے لئے وصیت کو جائز قرار دیا، اس وقت عباس بچے تھے۔

3317

Sunan Darmi #3317

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأنا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ: "إِذَا اتَّقَى الصَّبِيُّ الرَّكِيَّةَ، جَازَتْ وَصِيَّتُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابواسحاق نے کہا: قاضی شریح نے کہا: جب بچہ کنویں (میں گرنے) سے بچنے لگ جائے تو اس کی وصیت جائز ہے۔

3318

Sunan Darmi #3318

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق:"أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ حِينَ ثُغِرَ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدٌ: أَوْصَى لِظِئْرٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ بِأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فأجازه شريح، وَقَالَ: مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ، أَجَزْنَاهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابواسحاق سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کے ایک لڑکے نے جس کا نام مرثد تھا اور اس کے (دودھ کے) دانت گر گئے تھے، اس نے اہلِ حیرہ میں سے اپنی دایہ کے لئے چالیس درہم کی وصیت کی، قاضی شریح نے اس کو جائز قرار دیا اور فرمایا: جو کوئی حق بات کہے ہم نے اس کو جائز قرار دیا۔

3319

Sunan Darmi #3319

See Details

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى: أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ:"أَنَّ غُلَامًا بِالْمَدِينَةِ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَوَرَثَتُهُ بِالشَّامِ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِعُمَرَ أَنَّهُ يَمُوتُ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يُوصِيَ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُوصِيَ، فَأَوْصَى بِبِئْرٍ يُقَالُ لَهَا: بِئْرُ جُشَمَ، وَإِنَّ أَهْلَهَا بَاعُوهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفًا، ذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ مدینہ میں ایک لڑکے کی موت کا وقت قریب آیا، اس کے وارثین شام میں تھے، لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ وہ قریب الموت ہے، کیا وصیت کر سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ وہ وصیت کر سکتا ہے، چنانچہ اس نے ایک کنواں جس کو بئر جشم کہا جاتا تھا اس کی وصیت کی جس کو اس کے مالکان نے تیس ہزار میں بیچا تھا۔ ابوبکر نے ذکر کیا: اس لڑکے کی عمر دس یا بارہ سال تھی۔

3320

Sunan Darmi #3320

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يَجُوزُ وَصِيَّةُ الصَّبِيِّ في ماله في الثلث، فما دونه، وإنما يمنعه وليه ذلك في الصحة رهبة الفاقة عليه، فأما عند الموت، فليس له أن يمنعه".

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: بچے کی اپنے مال میں تہائی یا اس سے کم کی وصیت جائز ہے، اور بحالتِ صحت اس کا ولی اس بچے کو فقر و فاقہ کے ڈر سے وصیت سے روک سکتا ہے، لیکن موت کے وقت اس کو وصیت سے روکنے کا اختیارنہیں ہے۔

3321

Sunan Darmi #3321

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خالد الحذاء، وَأَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ:"أَنَّهُ أُتِيَ فِي جَارِيَةٍ أَوْصَتْ، فَجَعَلُوا يُصَغِّرُونَهَا، فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ، أَجَزْنَاهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے عبداللہ بن عتبہ کے پاس ایک بچی لائی گئی جس نے وصیت کی تھی، لوگوں نے اس کو چھوٹی سمجھا، لیکن انہوں نے کہا: جس شخص نے صحیح بات کی ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں۔

3322

Sunan Darmi #3322

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ:"أَنَّ سُلَيْمًا الْغَسَّانِيَّ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرٍ، أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَوْصَى بِبِئْرٍ لَهُ قِيمَتُهَا ثَلاثُونَ أَلْفًا"، فَأَجَازَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: النَّاسُ يَقُولُونَ: عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر سے مروی ہے کہ سلیم غسانی کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر دس یا بارہ سال تھی، انہوں نے اپنے کنویں کی وصیت کی جس کی قیمت تیس ہزار تھی، سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو جائز قرار دیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: سلیم غسانی کو لوگ عمرو بن سلیم کہتے ہیں (یعنی صحیح عمرو بن سلیم ہے نہ کہ سلیم غسانی)۔

3323

Sunan Darmi #3323

See Details

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنَيْهِ: عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّ أَحَدَهُمَا قَالَ: ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: قَبْلَ أَنْ يَحْتَلِمَ. قَالَ أَبُو مُحَمَّد: عَنْ ابْنَيْهِ، يَعْنِي: ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ اور محمد نے اپنے والد ابوبکر (بن محمد بن عمرو بن حزم) سے اسی طرح روایت کیا (جیسا اوپر گزرا) سوائے اس کے کہ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اس لڑکے کی عمر تیرہ سال تھی، اور دوسرے نے کہا: بالغ ہونے سے پہلے (وصیت کی)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «عن ابنيه» اس سے مراد ابوبکر کے دونوں بیٹے (عبداللہ اور محمد) ہیں۔