Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 23 · Chapter 1286

وراثت کے مسائل کا بیان

54. فرائض میں عول کا بیان

2 hadiths in this chapter

3195

Sunan Darmi #3195

Zaeef

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "الْفَرَائِضُ مِنْ سِتَّةٍ، لَا نُعِيلُهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فرائض چھ سے ہیں، ان (مسائل) میں ہم عول نہیں مانتے ہیں۔

3196

Sunan Darmi #3196

Zaeef

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ شريح بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:"اخْتُصِمَ إِلَى شُرَيْحٍ فِي بِنْتَيْنِ، وَأَبَوَيْنِ، وَزَوْجٍ، فَقَضَى فِيهَا، فَأَقْبَلَ الزَّوْجُ يَشْكُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ فَأَخَذَهُ، وَبَعَثَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا يَخَالُنِي امْرَأً جَائِرًا، وَأَنَا إِخَالُهُ امْرَأً فَاجِرًا، يُظْهِرُ الشَّكْوَى وَيَكْتُمُ قَضَاءً سَائِرًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا تَقُولُ فِي بِنْتَيْنِ، وَأَبَوَيْنِ، وَزَوْجٍ؟ فَقَالَ: لِلزَّوْجِ الرُّبُعُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، وَلِلْأَبَوَيْنِ السُّدُسَانِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلِابْنَتَيْنِ، قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ نَقَصْتَنِي؟ قَالَ: لَيْسَ أَنَا نَقَصْتُكَ، اللَّهُ نَقَصَكَ، لِلِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْأَبَوَيْنِ السُّدُسَانِ، وَلِلزَّوْجِ الرُّبُعُ، فَهِيَ مِنْ سَبْعَةٍ وَنِصْفٍ فَرِيضَةً، فَرِيضَتُكَ عَائِلَةٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

ایوب بن الحارث نے کہا: قاضی شریح کے پاس دو لڑکیوں، ماں اور باپ اور شوہر کا قضیہ آیا تو انہوں نے اس کا فیصلہ کر دیا (یعنی بغیر عول کے، لہٰذا اس کا حصہ کم ہوگیا) لہٰذا مسجد میں شوہر نے اس کا شکوہ کیا تو عبداللہ بن رباح نے قاضی شریح کو بلا بھیجا اور قاضی شریح سے پوچھا: تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ: یہ آدمی مجھے ظالم سمجھتا ہے اور اس کو میں فاجر سمجھتا ہوں کیوں کہ اس نے فتویٰ بتا دیا اور پورا فیصلہ چھپا گیا ہے، اس آدمی نے کہا: پھر آپ دو لڑکی، ماں باپ اور شوہر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: شوہر کے لئے پورے مال کا ريع (چوتھائی) ہے، اور ماں اور باپ دونوں کے لئے دو سدس (چھٹا) حصہ (یعنی چھ اور چھ) ہے، جو بچا وہ لڑکیوں کے لئے ہے، میں نے تمہارے لئے کیا کمی کی؟ عبداللہ بن رباح نے کہا: میں نے تمہاری کوئی تنقیص نہیں کی، الله تعالیٰ نے تمہارا نقص بیان کیا ہے۔ دونوں لڑکیوں کے لئے دو ثلث (چار) ماں باپ کے لئے سدسان (1۔1) اور شوہر کے لئے ربع چوتھا حصہ ہو گا، اور یہ مسئلہ ساڑھے سات سے ہو گا، اور اس مسئلہ میں عول سے کام لینا ہو گا۔