Sunan Darmi #3167
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "إِذَا ابْتَاعَ الْمُكَاتَبَانِ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ: هَذَا هَذَا مِنْ سَيِّدِهِ، وَهَذَا هَذَا مِنْ سَيِّدِهِ، فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ. وَيَقُولُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: الْوَلَاءُ لِسَيِّدِ الْبَائِعِ، وَيَقُولُونَ: إِنَّمَا ابْتَاعَ هَذَا مَا عَلَى الْمُكَاتَبِ، فَالْوَلَاءُ لِلسَّيِّدِ.
اردو ترجمہ · Urdu
قتاده رحمہ اللہ نے کہا: جب دو مکاتب آپس میں ایک دوسرے کو خرید لیں، یہ اس کے مالک سے اور وہ اس کے مالک سے، تو (ایسی صورت میں) پہلے جس نے خریدا ہے اس کی بیع کا اعتبار ہو گا (اور دوسرے کی بیع لغو ہو گی)، اور اہل مدینہ کا قول ہے کہ ولاء (حق وراثت) بیچنے والے مالک کو حاصل ہو گا، وہ کہتے ہیں: اس نے (جس نے خریدا) وہ چیز خریدی جو مکاتب پر واجب الاداء تھی، اس لئے ولاء ما لک کو ہی حاصل ہو گا۔