Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 23 · Chapter 1277

وراثت کے مسائل کا بیان

45. ولد الزنا کے میراث پانے کا بیان

14 hadiths in this chapter

3136

Sunan Darmi #3136

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: "وَلَدُ الزِّنَا بِمَنْزِلَةِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ولد الزنا ابن الملاعنہ کے درجہ میں ہے۔

3137

Sunan Darmi #3137

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ: أَنَّ "وَلَدَ الزِّنَا لَا يَرِثُهُ الَّذِي يَدَّعِيهِ، وَلَا يَرِثُهُ الْمَوْلُودُ".

اردو ترجمہ · Urdu

حکم نے کہا: ولد الزنا کا وہ شخص جو اپنا بچہ ہونے کا دعویٰ کرے وہ اس بچے کا وارث نہ ہوگا، نہ ولد الزنا اس کا وارث ہو گا۔

3138

Sunan Darmi #3138

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ كَانَ "لَا يُوَرِّثُ وَلَدَ الزِّنَا، وَإِنْ ادَّعَاهُ الرَّجُلُ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ ولد الزنا کو وارث نہیں مانتے تھے چاہے آدمی اس کا دعویٰ کرتا رہے۔

3139

Sunan Darmi #3139

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ:"أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَى إِلَى غُلَامٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ ابْنٌ لَهُ، وَأَنَّهُ زَنَى بِأُمِّهِ، وَلَمْ يَدَّعِ ذَلِكَ الْغُلَامَ أَحَدٌ، فَهُوَ يَرِثُهُ". قَالَ بُكَيْرٌ: وَسَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَقَالَ عُرْوَةُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار نے کہا: جو آدمی بھی کسی لڑکے کے پاس آئے اور یہ گمان رکھے کہ وہ اسی کا لڑکا ہے، اور اس نے لڑکے کی ماں سے زنا کیا تھا، اور اس لڑکے کے باپ ہونے کا دوسرا کوئی دعویٰ نہ کرے تو وہ اس لڑکے کا وارث ہو گا۔ بکیر نے کہا: میں نے عروة سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی سلیمان بن یسار کی طرح جواب دیا، اور عروہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اولاد فراش (یعنی بستر والے) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں (یعنی رجم)۔“

3140

Sunan Darmi #3140

Zaeef

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "ابْنُ الْمُلَاعَنَةِ مِثْلُ وَلَدِ الزِّنَا، تَرِثُهُ أُمُّهُ، وَوَرَثَتُهُ، وَرَثَةُ أُمِّهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حسن رحمہ اللہ نے کہا: ابن الملاعنہ، ولد الزنا کی طرح ہے، اس کی ماں ہی اس کی وارث ہو گی اور اس کی ماں کے وارثین اس کے وارث ہیں۔

3141

Sunan Darmi #3141

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ وَلَدُ الزِّنَا".

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا وارث نہیں بنایا جائے گا۔

3142

Sunan Darmi #3142

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَوْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: فِي أَوْلَادِ الزِّنَا، قَالَ: "يَتَوَارَثُونَ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ، وَإِنْ وَلَدَتْ تَوْءَمًا فَمَاتَ، وَرِثَ السُّدُسَ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری رحمہ اللہ نے اولاد الزنا کے بارے میں کہا کہ وہ ماؤں کی جانب سے وارث ہوں گے، اور اگر ایک بچہ جنا اور وہ مر گیا تو (دوسرا) سدس کا وارث ہو گا۔

3143

Sunan Darmi #3143

Zaeef

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ وَلَدُ الزِّنَا، إنما يرث من لم يقم على أبيه الحد، أو تملك أمه بنكاح 3، أو شراء".

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا (حرامی) وارث نہیں ہو گا، وارث وہ ہو گا جس کے باپ پر حد جاری نہ کی گئی ہو، یا جو اس بچے کی ماں کا نکاح یا خریدنے کی وجہ سے مالک ہو۔

3144

Sunan Darmi #3144

Zaeef

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، قَالَ: "لَا بَأْسَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ حُبْلَى، فَإِنَّ الْوَلَدَ لَا يَلْحَقُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

اسماعیل سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے کہا: (کوئی) آدمی عورت سے زنا کرے پھر اسی سے شادی کر لے، حسن رحمہ اللہ نے کہا: نکاح کر لینے میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو (یعنی حمل کی حالت میں نکاح نہ کیا ہو)، لیکن لڑکا اس کی طرف منسوب نہ ہو گا۔ (یعنی ولد الزنا نہ باپ کی طرف منسوب ہو گا اور نہ وارث ہو گا)۔

3145

Sunan Darmi #3145

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ "كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ بَعْدَهُ، فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ يَطَؤُهَا، فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا، أَوْ حُرَّةٍ عَاهَرَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، فَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا: حُرَّةً، أَوْ أَمَةً".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو لڑکا اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اس سے ملایا جائے۔“ (یعنی اس مرنے والے کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں کہ یہ ہمارے موروث کا بچہ ہے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ ”وہ لڑکا اس لونڈی سے ہے جس کا مالک جماع کے وقت اس کا باپ تھا تو اس کا نسب ملانے والے سے مل جائے گا۔ لیکن جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گا اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا، اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا، مگر وہ باپ جس سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے اپنی زندگی میں اس کے نسب کا انکار کیا ہو تو وہ وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا (یعنی اس کا بچہ نہ مانا جائے گا) اور اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا ایسی آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا (گرچہ اس مرد کے وارث اس بچے کو اس سے ملا دیں) اور نہ وہ بچہ اس (زانی) مرد کا وارث ہو گا چاہے اس کے باپ نے اپنی زندگی میں اس کا دعویٰ کیا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، کیوں کہ وہ ولد الزنا ہے اور وہ اپنی ماں کے لوگوں سے مل جائے گا، چاہے وہ آزاد کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو یا لونڈی کے پیٹ سے (آخر ولد الزنا ہے، اور وارث نہ ہو گا، نہ نسب میں شامل ہو گا)۔“

3146

Sunan Darmi #3146

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ مَمْلُوكٍ لِي وَلَدُ زِنًا، قَالَ: "لَا تَبِعْهُ، وَلَا تَأْكُلْ ثَمَنَهُ، وَاسْتَخْدِمْهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

عمیر بن زید نے کہا: میں نے شعبی رحمہ اللہ سے اپنے غلام کے بارے میں پوچھا جو زنا سے پیدا ہوا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ: نہ اس کو بیچو، نہ اس کی قیمت کھانا، بس اس سے خدمت لے سکتے ہو۔

3147

Sunan Darmi #3147

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: سُئِلَ عَنْ وَلَدِ زِنَا يَمُوتُ، قَالَ: "إِنْ كَانَ ابْنَ عَرَبِيَّةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَجُعِلَ بَقِيَّةُ مَالِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ مَوْلَاةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَوَرِثَ مَوَالِيهَا الَّذِينَ أَعْتَقُوهَا مَا بَقِيَ. قَالَ مَرْوَانُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سعید نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ سے ولد الزنا کے بارے میں پوچھا گیا جو وفات پا جائے، کہا: اگر عربی عورت سے تھا تو اس کی ماں ثلث (تہائی) کی وارث ہو گی اور باقی مال بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا، اور اگر وہ مرنے والا لونڈی کا لڑکا تھا تو بھی اس کی ماں ثلث کی وارث ہو گی اور جو باقی بچا اس کے لونڈی کو آزاد کرنے والے وارث ہوں گے۔ مروان نے کہا: میں نے سنا امام مالک رحمہ اللہ یہ ہی فرماتے تھے۔

3148

Sunan Darmi #3148

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَضَى بِمِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ كُلِّهِ، لِمَا لَقِيَتْ فِيهِ مِنْ الْعَنَاءِ".

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الملاعنہ (جس بچے کا باپ منکر ہو) کی کل میراث (مال) کا فیصلہ ماں کے لئے کیا، کیوں کہ اس کی ہی وجہ سے وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔

3149

Sunan Darmi #3149

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ قَالَ فِي وَلَدِ الزِّنَا لِأَوْلِيَاءِ أُمِّهِ: "خُذُوا ابْنَكُمْ تَرِثُونَهُ وَتَعْقِلُونَهُ، وَلَا يَرِثُكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن وہب سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولد الزنا کے بارے میں اس کی ماں کے اولیاء سے کہا کہ اس کو لے جاؤ، تم اس کے وارث ہو گے، اور اس کی دیت کے ذمہ دار بھی ہوگے، اور یہ تمہارا وارث نہ ہو گا۔