Sunan Darmi #2848
(حديث قدسي) أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:"كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَكَانَ لَا يَدِينُ لِلَّهِ دِينًا، وَإِنَّهُ لَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ، فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، فَدَعَا بَنِيهِ , فَقَالَ: أَيُّ أَبٍ تَعْلَمُونِي؟ قَالُوا: خَيْرُهُ يَا أَبَانَا، قَالَ: فَإِنِّي لَا أَدَعُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَخَذْتُهُ مِنْكُمْ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ، قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا وَرَبِّي، قَالَ: أَمَّا أَنَا إِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ، فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ قَطُّ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ، قَالَ: إِنِّي أَسْمَعُكَ لَرَاهِبًا، قَالَ: فَتِيبَ عَلَيْهِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: يَبْتَئِرُ، يَدَّخِرُ.
اردو ترجمہ · Urdu
بہز بن حکیم نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کرتے ہوئے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا جس کا کوئی دین ایمان نہ تھا، وہ اسی بے دینی پر رہا یہاں تک کہ اس کی عمر کا اکثر حصہ گذر گیا اور تھوڑی سی عمر باقی رہ گئی تو اسے احساس ہوا کہ اس نے اللہ کے لئے کوئی نیکی نہیں کی، چنانچہ اس نے اپنے لڑکوں کو بلایا اور کہا: تم مجھے کیسا باپ پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: بہت اچھا اے اباجان! اس نے کہا: میں تم میں سے کسی کے پاس اپنا مال نہیں چھوڑوں گا، میں تم سے سب لے لوں گا، الا یہ کہ میں تمہیں کوئی حکم دوں تو تم عمل کرو گے؟ پھر اس نے ان سے پکا وعدہ لیا، میرے رب کی قسم اس نے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے لے کر آگ میں جلا دینا اور جب میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس ڈالنا اور میری راکھ ہوا میں اڑا دینا“ (بعض روایات میں ہے جب زور کی آندھی آئے تو آدھی راکھ سمندر میں اور آدھی ہوا میں اڑا دینا) فرمایا: ”میرے رب کی قسم! ان لڑکوں نے اس کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ اس کو اس کی اصل حالت میں لایا گیا اور رب العالمین کے حضور پیش کیا گیا، الله تعالیٰ نے فرمایا: تم کو آ گ اختیار کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ عرض کیا: تیری خشیت نے اے میرے رب، الله تعالیٰ نے کہا: میں تجھے ڈرتا دیکھ رہا ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی توبہ قبول کر لی گئی۔“ (یعنی اس کو بخش دیا گیا)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «يَبْتَئِرُ» کا معنی ہے «يَدَّخِرُ» یعنی آخرت کے لئے ذخیرہ کیا ہو۔