Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 22 · Chapter 1194

دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان

83. شفاعت کا بیان

1 hadith in this chapter

2839

Sunan Darmi #2839

Zaeef

(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا دُخَيْنٌ الْحَجْرِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَقَضَى بَيْنَهُمْ وَفَرَغَ مِنَ الْقَضَاءِ، قَالَ الْمُؤْمِنُونَ: قَدْ قَضَى بَيْنَنَا رَبُّنَا، فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا؟ فَيَقُولُونَ: انْطَلِقُوا إِلَى آدَمَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَهُ بِيَدِهِ، وَكَلَّمَهُ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُونَ: قُمْ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا. فَيَقُولُ آدَمُ: عَلَيْكُمْ بِنُوحٍ، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَدُلُّهُمْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَدُلُّهُمْ عَلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَدُلُّهُمْ عَلَى عِيسَى، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: أَدُلُّكُمْ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ. قَالَ: فَيَأْتُونِي فَيَأْذَنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي أَنْ أَقُومَ إِلَيْهِ، فَيَثُورُ مَجْلِسِي أَطْيَبَ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ قَطُّ، حَتَّى آتِيَ رَبِّي فَيُشَفِّعَنِي وَيَجْعَلَ لِي نُورًا مِنْ شَعْرِ رَأْسِي إِلَى ظُفْرِ قَدَمِي، فَيَقُولُ الْكَافِرُونَ عِنْدَ ذَلِكَ لِإِبْلِيسَ: قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَهُمْ، فَقُمْ أَنْتَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّكَ أَنْتَ أَضْلَلْتَنَا. قَالَ: فَيَقُومُ، فَيَثُورُ مَجْلِسُهُ أَنْتَنَ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ قَطُّ، ثُمَّ يَعْظُمُ لِجَهَنَّمَ، فَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ: وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ سورة إبراهيم آية 22" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب الله تعالىٰ (قیامت کے دن) اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کر کے ان کے درمیان فیصلے کرے گا اور فیصلوں سے فارغ ہوگا تو ایمان والے لوگ کہیں گے: ہمارے درمیان ہمارے رب سے ہماری شفارس کون کرے گا؟ چلو آدم (علیہ السلام) کے پاس چلتے ہیں کیونکہ الله تعالیٰ نے انہیں اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا اور ان سے کلام بھی کیا، چنانچہ وہ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: ہمارے رب سے ہماری شفاعت کیجئے، آدم (علیہ السلام) کہیں گے: تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، وہ ان کی ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف رہنمائی کریں گے، لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو وہ انہیں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف رہنمائی کریں گے، لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو وہ انہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیں گے، وہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں تمہیں نبی امی کا پتہ دیتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ میرے پاس آئیں گے، اللہ تعالیٰ مجھے اپنے پاس کھڑے ہونے کی اجازت دے گا تو (میرے کھڑے ہونے پر) میری جگہ سے ایسی اچھی خوشبو پھوٹ پڑے گی جو (شاید ہی پہلے) کسی نے سونگھی ہو، میں اپنے رب کے پاس پہنچوں گا اور وہ میری شفاعت قبول کرے گا اور میرے اندر سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک نور (ہی نور) بھر دے گا، اس وقت کافر ابلیس سے کہیں گے: ایمان والوں کو تو ایسی شخصیت مل گئی جو ان کے لئے سفارش کرے، تو بھی اٹھ اور ہمارے لئے اپنے رب کے پاس سفارش کر کیونکہ تو نے ہی ہم کو گمراہ کیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چنانچہ وہ کھڑا ہوگا اور اس کی جگہ سے اتنی زیادہ بدبو چھوٹے گی جو شاید ہی کسی نے پہلے سونگھی ہو، پھر اس کو جہنم کی طرف ہنکا دیا جائے گا، اس وقت شیطان کہے گا: «﴿وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ . . . . . .﴾» “ (ابراہیم: 22/14)، ترجمہ: جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا کہ: الله تعالیٰ نے تو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری بات مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس ہوں نہ تم فریاد رسی کر سکتے ہو (یعنی نہ میں تمہاری سفارش کر سکتا ہوں اور نہ تم میری سفارش کر کے جہنم سے مجھے نجات دلا سکتے ہو) . الخ۔