Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 22 · Chapter 1190

دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان

79. قیامت کے احوال اور رب العالمین کے نزول کا بیان

2 hadiths in this chapter

2834

Sunan Darmi #2834

Sahih

(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:"يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ”(قیامت کے دن) الله تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: آج صرف میں بادشاہ ہوں دنیا کے بادشاہ (آج) کہاں ہیں؟“

2835

Sunan Darmi #2835

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قِيلَ لَهُ: مَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟، قَالَ:"ذَاكَ يَوْمٌ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى كُرْسِيِّهِ يَئِطُّ كَمَا يَئِطُّ الرَّحْلُ الْجَدِيدُ مِنْ تَضَايُقِهِ بِهِ، وَهُوَ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً، عُرَاةً، غُرْلًا، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اكْسُوا خَلِيلِي، فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أُكْسَى عَلَى إِثْرِهِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ مَقَامًا يَغْبِطُنِي الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مقامِ محمود سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہوگا اور وہ اس طرح آواز نکالے گی جیسے نئے کجاوے (پالان) پر بیٹھنے سے آواز ہوتی ہے، یہ اس کی تنگی کی وجہ سے ہوگی حالانکہ اس کرسی کی وسعت زمین و آسمان کے درمیان جتنی ہوگی، اور اس دن تم کو ننگے پیر ننگے بدن غیر مختون لایا جائے گا، اور سب سے پہلے جن کو کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، الله تعالیٰ فرمائے گا: میرے خلیل کو کپڑے پہناؤ، چنانچہ جنت کے دو باریک کپڑے لائے جائیں گے، پھر ان کے بعد مجھے کپڑا پہنایا جائے گا، پھر میں الله (جل جلالہ) کے داہنے جانب کھڑا ہو جاؤں گا اور یہی وہ مقام (محمود) ہے جس پر مجھ سے اگلے پچھلے لوگ رشک کریں گے۔“