Sunan Darmi #2818
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءَ؟، قَالَ: "الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ صَلَابَةً، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ، خُفِّفَ عَنْهُ، وَلَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ مَا لَهُ خَطِيئَةٌ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کن لوگوں کا امتحان سخت ہوتا ہے؟ (ان پر آفت و مصیبت زیادہ آتی ہے)، فرمایا: ”پیغمبروں پر، پھر ان پر جو مرتبے میں ان کے بعد افضل ہیں، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں، اور آدمی پر اس کے دین کے موافق بلا آتی ہے، اگر وہ اپنے دین میں قوی اور سخت ہوتا ہے تو اس کی مصیبت بھی شدید و سخت ہوتی ہے، اور اگر اس کے دل میں نرمی اور کمی ہوتی ہے تو مصیبت میں اس پر کمی رہتی ہے، اور بندے پر اسی انداز میں (دکھ، بیماری، افلاس، رنج کی) مصیبت پڑتی رہتی ہے جہاں تک کہ وہ زمین پر چلتا ہے اور کوئی گناہ اس پرنہیں رہتا۔“