Sunan Darmi #2665
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ , فَرَجَعَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "إِذَا اسْتَأْذَنَ الْمُسْتَأْذِنُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا، فَلْيَرْجِعْ"، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ، وَلَأَفْعَلَنَّ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا وَأَنَا فِي قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُوَ فَزِعٌ مِنْ وَعِيدِ عُمَرَ إِيَّاهُ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ مِنْكُمْ رَجُلًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا شَهِدَ لِي بِهِ. قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَقُلْتُ: أَخْبِرْهُ أَنِّي مَعَكَ عَلَى هَذَا. وَقَالَ ذَاكَ آخَرُونَ، فَسُرِّيَ عَنْ أَبِي مُوسَى.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہونے کی اجازت مانگی لیکن انہیں اجازت نہ ملی، چنانچہ وہ واپس ہوگئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم واپس کیوں چلے گئے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اجازت طلب کرنے والا داخلے کی تین بار اجازت مانگے، اگر اجازت مل جائے تو داخل ہو جائے ورنہ واپس لوٹ جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کو اس بات پر گواہ لانا ہوگا ورنہ میں تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور میں بھی اس جماعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ مسجد میں موجود تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی انہیں تنبیہ کی وجہ سے بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ ہمارے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: کہ میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہو تو میرے ساتھ اس کی گواہی دے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سر اٹھایا اور کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتا دو کہ میں نے بھی تمہارے ساتھ یہ سنا ہے اور دیگر صحابہ کرام نے بھی ان کی تائید کی، چنانچہ یہ سن کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ خوش ہو گئے۔