Sunan Darmi #2577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ: يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِطَعَامٍ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَأَعْجَبَهُ حُسْنُهُ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي جَوْفِهِ، فَأَخْرَجَ شَيْئًا لَيْسَ كَالظَّاهِرِ فَأَفَّفَ بِصَاحِبِ الطَّعَامِ، ثُمَّ قَالَ: "لَا غِشَّ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر مدینہ کے بازار میں غلے (طعام) کے ایک ڈھیر پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اچھا لگا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کر دیا تو اس کے اندر سے ایسی چیز نکلی جو ظاہر میں (ڈھیر کے اوپر) نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اف اف کیا پھر اس غلہ فروش سے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان دھوکہ بازی نہیں ہے، جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“