Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 20 · Chapter 962

خرید و فروخت کے ابواب

1. حلال اور حرام کے واضح ہونے کا بیان

1 hadith in this chapter

2567

Sunan Darmi #2567

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُتَشَابِهَاتٌ، لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ، اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ، وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى فَيُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ، صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ، فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں (اس کی حلت و حرمت سے سب لوگ واقف نہیں) ان کو بہت سے لوگ نہیں جانتے (حلال ہیں یا حرام) پھر جو کوئی مشتبہ چیزوں سے بچے اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا، اور جو کوئی مشتبہ کام میں پڑا وہ حرام میں پڑ جائے گا، اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو (شاہی محفوظ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو قریب ہے کہ کبھی وہ اس چراگاہ کے اندر گھس جائے (اور شاہی مجرم قرار پائے) سنو، ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں (پس ان سے بچو) سن لو، بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوگا سارا بدن درست ہوگا، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا (آدمی) کا دل ہے۔“