Sunan Darmi #2646
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِي، فَقَالَ:"يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا، أَمْ كَافِرٌ؟". قُلْتُ: مُسْلِمٌ، فَقَالَ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ، أَوْ دَابَّةٌ، أَوْ طَيْرٌ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مجھ سے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی بیوی سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میرے باغ میں تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ام مبشر! یہ (کھجور کے) درخت کس نے لگائے؟ مسلمان نے یا کافر نے؟“ میں نے عرض کیا: مسلمان نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی آدمی، جانور، یا پرندہ کھائے تو یہ اس کے لئے صدقہ ہے (یعنی درخت لگانے والے مسلمان کو صدقہ کرنے کا اجر و ثواب ہے)۔“