Sunan Darmi #2617
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ وَرُبَّمَا قَالَ: أَقْبِضُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ: إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ. قَالَ: "لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِكَ، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا، وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں بقیع کے پاس اونٹ بیچا کرتا تھا، دنانیر کے حساب سے بیچا اور پھر دراہم لے لیتا اور دراہم کے حساب سے بیچتا تو دنانیر لے لیتا (بعض روایات میں اخذ کی جگہ اقبض ہے، معنی دونوں کا ایک ہی ہے)، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ذرا ٹھہریئے مجھے آپ سے سوال پوچھنا ہے۔ میں دنانیر کے عوض بقیع کے پاس اونٹ بیچتا ہوں اور درہم لے لیتا ہوں اور کبھی دراہم کے حساب سے اونٹ بیچتا ہوں اور دنانیر لے لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی قباحت نہیں اگر تم اسی دن کے نرخ (قیمت) سے لے لو جب تک کہ جدا نہ ہو ایک دوسرے پر باقی چھوڑ کر (یعنی حساب بے باق کر کے جدا ہو)۔“