Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 20 · Chapter 1001

خرید و فروخت کے ابواب

40. طعام کی بیع کمی اور زیادتی کے ساتھ منع ہے

2 hadiths in this chapter

2612

Sunan Darmi #2612

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدِي مُدُّ تَمْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ أَطْيَبَ مِنْهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ؟". قُلْتُ: اشْتَرَيْتُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ. قَالَ:"رُدَّهُ وَرُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مد کھجوریں تھیں، مجھے اس سے اچھی کھجور ایک صاع دو صارع کے بدلے میں ملیں اور میں نے وہ خرید لیں اور انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور تمہارے پاس کہاں سے آ گئیں؟“ میں نے عرض کیا کہ دو صاع دیکر ایک صاع میں نے خرید لی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو واپس کر دو اور ہماری کھجور ہمیں لوٹا دو۔“

2613

Sunan Darmi #2613

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ: ابْنُ بِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ. قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ: يَعْنِي: جَيِّدًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟". قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَفْعَلُوا، وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ، أَوْ بِيعُوا هَذَا، وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعدی کے بھائی کو خیبر کے لئے عامل (آفیسر یا تحصیل دار) بنا کر بھیجا تو وہ وہاں سے جنيب (نامی اچھی کھجور) لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی (عمده) ہوتی ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! سب ایسی نہیں ہوتی تھیں، ہم جمع (نامی ردی کھجور) کے دو صاع دے کر اس (جنیب) کا ایک صاع خریدتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو بلکہ اسی کے مثل برابر (تول و ناپ میں) خرید و فروخت کرو یا پھر اس کو بیچ دو اور اس کی قیمت سے جنيب (اچھی کھجور) خرید لو، اور تولنے والی اشیاء میں بھی اسی طرح سے کرو۔“