Sunan Darmi #732
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَضَّأُ بِالْجُحْفَةِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُرِيدُ بِهِ تَفْسِيرَ مَسْحِ الْأَوَّلِ.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، پس آپ نے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین بار دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیا، اور سر کا مسح ہاتھ میں بچے پانی کے بجائے نئے پانی سے کیا۔ ابومحمد نے فرمایا: آخری جملے سے، پہلے مسح کی تفسیر مقصود ہے۔