Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 2 · Chapter 62

وضو اور طہارت کے مسائل

5. قضائے حاجت کے وقت پردہ پوشی کا بیان

2 hadiths in this chapter

685

Sunan Darmi #685

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ، مَنْ اسْتَجْمَرَ، فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ، مَنْ أَكَلَ فَلْيَتَخَلَّلْ، فَمَا تَخَلَّلَ، فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ، فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ أَتَى الْغَائِطَ، فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبَ رَمْلٍ، فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَتَلَاعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا، فَلَا حَرَجَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سرمہ لگائے تو طاق بار لگائے، جو کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو ڈھیلے سے استنجا کرے تو طاق بار کرے، جو کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرے، پھر خلال سے کچھ نکلے تو اسے پھینک دے، اور جو زبان سے لگا رہے اسے نگل جائے، جو ایسا کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص پائخانہ کو جائے تو آڑ میں ہو جائے، اگر کچھ بھی آڑ نہ ہو ریت کے ایک ڈھیر کے سوا تو اس کی آڑ میں بیٹھ جائے اس لئے کہ شیاطین آدمی کی شرم گاہ سے کھیلتے ہیں، جو شخص ایسا کرے گا تو بہتر، نہ کرے تو کوئی حرج نہیں۔“

686

Sunan Darmi #686

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ "هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت کے وقت ٹیلے یا کھجور کے درختوں کی آڑ بہت پسند تھی۔