Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 2 · Chapter 60

وضو اور طہارت کے مسائل

3. اللہ تعالیٰ کا فرمان: «إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ» کابیان

3 hadiths in this chapter

680

Sunan Darmi #680

See Details

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ سورة المائدة آية 6".

اردو ترجمہ · Urdu

عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پانچوں نمازیں ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر نماز کے لئے وضو کرتے تھے، اور انہوں نے یہ آیت پڑھی: «إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ» [5-المائدة:6] ”جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے منہ ہاتھ دھو لو۔“

681

Sunan Darmi #681

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ تَوَضُّأَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا، أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ ذَلِكَ؟، قَالَ: حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَرَى أَنَّ بِهِ عَلَى ذَلِكَ قُوَّةً، فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے عبید اللہ نے کہا: میں نے سوچا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہر نماز کے لئے چاہے وہ طاہر رہے ہوں یا غیر طاہر، وضو کرنے کے بارے میں کیا رائے ہے، ایسا کیوں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اسماء بنت زید بن الخطاب نے ان سے بیان کیا تھا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لئے وضو کرنے کا حکم دیا، باوضو طاہر ہوں یا بےوضو، پھر جب ایسا کرنا ان کے لئے مشکل ہو گیا تو ہر نماز کے لئے مسواک کا حکم فرمایا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ وہ ہر نماز کے لئے وضو کی طاقت رکھتے ہیں، اس لئے وہ کسی نماز کے لئے وضو ترک نہیں کرتے تھے۔

682

Sunan Darmi #682

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ؟، قَالَ:"إِنِّي عَمْدًا صَنَعْتُ يَا عُمَرُ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: فَدَلَّ فِعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ سورة المائدة آية 6، لِكُلِّ مُحْدِثٍ، لَيْسَ لِلطَّاهِرِ، وَمِنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ"، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابن بریدہ نے اپنے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے وضو کرتے تھے، حتی کہ جب مکہ فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازیں ایک وضو سے پڑھیں، اور خفین پر مسح فرمایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے دیکھا آپ نے ایسا کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہ کرتے تھے؟ فرمایا: میں نے عمداً ایسا کیا ہے۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل دال ہے اس بات پر کہ اس آیت «﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾» [مائده: 6/5] کا مطلب ہے کہ ہر حدث والے پر ہر نماز کے لئے وضو ہے، اور باوضو کے لئے نہیں، اور اسی قبیل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”وضو صرف حدث سے ہے۔“ واللہ اعلم