Sunan Darmi #775
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: بَلَغَنِي، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ، إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهًمَا يُخْبِرُ: أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، "فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ"، فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"قَتَلُوهُ، قَتَلَهُمْ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ؟"، قَالَ عَطَاءٌ: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ:"لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ، وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجُرْحُ".
اردو ترجمہ · Urdu
عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا، وہ خبر دیتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زخمی ہو گیا، پھر انہیں احتلام ہو گیا، ان کو غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ مر گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے انہیں مار ڈالا، الله ان سے سمجھے، کیا نا واقفیت کا علاج معلوم کر لینا نہیں ہے؟“ عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (زخمی) کو اپنا جسم دھو لینا اور سر کو جہاں زخم لگا تھا چھوڑ دینا چاہیے تھا۔“