Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 2 · Chapter 123

وضو اور طہارت کے مسائل

66. تیمم کے لئے ایک بار زمین پر ہاتھ مارنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

768

Sunan Darmi #768

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ: "ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: صَحَّ إِسْنَادُهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیمّم کے بارے میں فرماتے تھے کہ ”چہرے اور ہاتھوں کے لئے ایک بار زمین پر ہاتھ مارنا کافی ہے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔ یعنی ایک بار زمین پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر مل لیں۔

769

Sunan Darmi #769

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا "اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمْ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا مِنْ غَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ"، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً.

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار مانگ کر لیا وہ گم ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے چند لوگوں کو اس کو ڈھونڈنے کے لئے بھیجا، وہاں نماز کا وقت آ گیا اور پانی نہ ملا تو ان لوگوں نے بے وضو نماز پڑھ لی، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے تو یہ معاملہ بیان کیا، اسی وقت تیمّم کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو الله تعالیٰ اچھا بدلہ دے، اللہ کی قسم جب بھی کوئی آفت آپ پر آئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ٹال دیا، اور اس کو مسلمانوں کے لئے باعث برکت بنا دیا۔