Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 19 · Chapter 944

سیر کے مسائل

66. اہل قریظہ کا سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہتھیار ڈالنے کا بیان

1 hadith in this chapter

2545

Sunan Darmi #2545

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَطَعُوا أَبْجَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ، يَدُهُ فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حَكْمِ سَعْدٍ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ، وَتُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ لِيَسْتَعِينُ بِهِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ". وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمُ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جنگِ احزاب میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے تیر لگ گیا اور ان کی رگ (ابجل نامی) کٹ گئی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سے داغ دیا، ان کا ہاتھ سوج گیا اور پھر سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوباره داغا، پھر ہاتھ سورج گیا۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ حال دیکھا (اور موت کا یقین ہو گیا) تو کہا: اے اللہ اس وقت تک میری جان نہ نکالنا جب تک کہ بنی قریظہ سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں (یعنی ان کی ہلاکت دیکھ لوں اللہ کی مشیت سے)، ان کی رگ رک گئی اور اس سے ایک قطرہ بھی خون نہ ٹپکا یہاں تک کہ بنوقریظہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حکم پر اتر آئے (یعنی انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے)، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا (یعنی انہیں بلایا، وہ آئے) اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا: ان کے مرد قتل کر دیئے جائیں اور عورتیں زندہ رکھی جائیں تاکہ مسلمانوں کو ان سے مدد ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا“، اس وقت بنوقریظہ کے چار سو افراد تھے، جب ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے۔