Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 19 · Chapter 942

سیر کے مسائل

64. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح حدیبیہ کا بیان

1 hadith in this chapter

2543

Sunan Darmi #2543

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لأَنُقِرُّ بِهَذَا، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: "أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ"، فَقَالَ لِعَلِيٍّ:"امْحُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ"، فَقَالَ: لا وَاللَّهِ لا أَمْحُوهُ أَبَدًا. فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ، فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنْ لَا يَدْخُلَ مَكَّةَ بِسِلَاحٍ إِلا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ، وَلا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا. فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھا لیکن مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا، آخر صلح اس پر ہوئی کہ آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تین روز قیام کریں گے، جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو اس میں لکھا کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، لیکن مشرکین نے کہا: ہم تو اس کو نہیں مانتے، اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بالکل نہ روکیں گے، آپ صرف عبداللہ کے بیٹے محمد ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”محمد رسول الله کا لفظ مٹا دو“، انہوں نے کہا: نہیں الله کی قسم میں اس کو نہیں مٹاؤں گا، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وہ دستاویز لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح لکھنا بھی نہ جانتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسول اللہ کی جگہ لکھا: یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اس شرط پر صلح کی ہے کہ مکہ میں وہ تلوار کو میان میں اٹھائے بنا داخل نہ ہوں گے، اور مکے کا کوئی شخص ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو وہ اسے ساتھ نہ لے جائیں گے، لیکن اگر ان کے اصحاب میں سے کوئی شخص مکہ میں رہنا چاہے گا تو وہ اسے نہ روکیں گے۔ جب اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اور تین دن کی مدت پوری ہوگئی تو مشرکینِ مکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اپنے صاحب سے کہیے مدت پوری ہوگئی اور اب مکہ سے نکل جائیں .. چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے ۔