Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 19 · Chapter 940

سیر کے مسائل

62. دشمن مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیں اس کا بیان

1 hadith in this chapter

2541

Sunan Darmi #2541

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَقَيْلٍ فَأُسِرَ، وَأُخِذَتِ الْعَضْبَاءُ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَى مَا تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ، وَقَدْ أَسْلَمْتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ". وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، وَإِنِّي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَذِهِ حَاجَتُكَ". ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِيَ بِرَجُلَيْنِ، فَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ. ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِهِ فِيهَا الْعَضْبَاءُ وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً إِبِلُهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ. فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَتْ الْمَرْأَةُ وَقَدْ نُوِّمُوا، فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَيْهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلا رَغَا، حَتَّى أَتَتْ الْعَضْبَاءَ، فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ، فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ تَوَجَّهَتْ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، وَنَذَرَتْ لَئِنِ اللَّهُ نَجَّاهَا، لَتَنْحَرَنَّهَا. قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتِ عُرِفَتِ النَّاقَةُ، فَقِيلَ: نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَتِ الْمَرْأَةُ بِنَذْرِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَتْهَا إِنَّ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا؟ أَلا لا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: عضباء اونٹنی بنوعقیل کے ایک شخص کی تھی جس کو قید کر لیا گیا اور اونٹنی کو پکڑ لیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے جبکہ وہ بند تھا، اس شخص نے کہا: اے محمد! آپ لوگوں نے مجھے اور حاجیوں کے آگے چلنے والی اونٹنی کو کس جرم میں پکڑ لیا ہے حالانکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مسلمان ہونے کا اقرار اس وقت کیا ہوتا جب تم آزاد تھے تو تم بالکل کامیاب رہتے (یعنی تمہیں گرفتار نہ کیا جاتا) اور ہم نے تمہیں تمہارے حلیف ثقیف کی پاداش میں پکڑا ہے“، کیونکہ ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اصحاب کو پکڑ لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر بیٹھ کر ایک چادر اوڑھے ہوئے آئے تھے۔ بنوعقیل کے اس شخص نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلایئے۔ پیاسا ہوں پانی پلایئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یہ تمہاری ضرورت ہے“ (جو پوری کی جائے گی) پھر اس آدمی کو (ان) دو صحابی کے بدلے چھوڑ دیا گیا اور عضبا ء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لئے روک لیا (یعنی اسے نہیں چھوڑا)، بعض رواة نے «بِرِجْلِهٖ» کہا (یعنی اپنے قدم کے لئے) اور یہ عضباء حجاج کے قافلے میں (طاقت ور و تیز رو ہونے کے سبب) آگے آگے چلتی تھی، اس کے کچھ دن بعد مشرکین نے مدینہ کے مویشی (جانوروں) پر ڈاکہ ڈالا اور جانوروں کو جن میں عضباء بھی تھی ہنکا لے گئے، ان میں ایک مسلمان عورت کو بھی (جو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں) پکڑ کر لے گئے۔ وہ لوگ جب رات ہوتی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے ایک لفظ کہا: تو وہ لوگ اپنے جانوروں کو گھروں کے سامنے آزاد چھوڑ دیتے، ایک رات وہ مسلمان قیدی عورت (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی) جب وہ سو گئے تو اٹھی اور (اونٹوں کے پاس آئی) جس اونٹ پر ہاتھ رکھتی وہ آواز نکالنے لگتا یہاں تک کہ عضباء کے پاس آئی، جو اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو چکی تھی اور وہ مطیع چلنے میں مشاق تھی (اس نے آواز نہ کی)، وہ عورت اس پر سوار ہوگئی اور مدینہ منورہ کا رخ کیا اور نذر مانی کہ اگر الله تعالیٰ نے (اس کے ساتھ) اس اونٹنی کو نجات دیدی (اور وہ اسے بچا لے گئی) تو وہ اسے قربان کر دے گی، جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی کو پہچان لیا گیا اور کہا گیا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس عورت نے بتایا کہ میں نے اس کو ذبح کر دینے کی منت مانی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بڑا برا اس کو بدلہ دیا، الله تعالیٰ نے اس لئے اس کو نجات دی کہ تم اسے ذبح کر ڈالو؟ سنو! ایسی منت (نذر) پوری کرنا ضروری نہیں، جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو، نہ ایسی نذر پوری کی جائے جس پر ابنِ آدم کا اختیار نہ ہو۔“