Sunan Darmi #2539
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أُسْفِرُ فَرَسًا لِي مِنَ السَّحَرِ فَمَرَرْتُ عَلَى مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ، فَسَمِعْتُهُمْ يَشْهَدُونَ أَنَّ مُسَيْلَمَةَ رَسُولُ اللَّهِ، فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ الشُّرَطَ، فَأَخَذُوهُمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، إِلَيْهِ فَتَابَ الْقَوْمُ وَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ، وَقَدَّمَ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النَّوَاحَةِ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ، فَقَالُوا لَهُ: تَرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَتَلْتَ هَذَا؟، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ دَخَلَ هَذَا وَرَجُلٌ وَافِدَيْنِ مِنْ عِنْدِ مُسَيْلَمَةَ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، فَقَالَا لَهُ: تَشْهَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَيْلَمَةَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا، لَقَتَلْتُكُمَا". فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ. وَأَمَرَ بِمَسْجِدِهِمْ فَهُدِمَ.
اردو ترجمہ · Urdu
ابن معیز سعدی نے کہا: میں اپنے گھوڑے کو چارہ لینے کے لئے نکلا تو بنوحنیفہ کی مساجد میں سے ایک مسجد کے پاس سے گزر ہوا، میں نے وہاں لوگوں سے سنا کہ وہ شہادت دے رہے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر آیا اور ان کو اس کی اطلاع دی، چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پولیس کو ان لوگوں کے پاس بھیجا، ان لوگوں نے اس کو پکڑا، ان کو وہ لے آئے۔ لوگوں نے توبہ کی اور اپنے قول سے رجوع کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ خالی کر دیا (یعنی انہیں چھوڑ دیا)۔ ان میں سے ایک آدمی آیا جس کو عبداللہ بن نواحہ کہا جاتا تھا، اس کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مار ڈالا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سب لوگوں کو چھوڑ دیا اور اس کو قتل کر دیا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یہ اور ایک اور شخص مسیلمہ کی طرف سے وفد کی صورت میں آئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ان دونوں نے کہا: کیا آپ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں الله اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں، اگر میں وفد (قاصد ین)کو قتل کرنے والا ہوتا تو تمہیں ضرور قتل کر دیتا“، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس لئے میں نے اس شخص کو قتل کیا اور ان کی مسجد کو مسمار کرنے کا حکم دیا جو مسمار کر دی گئی۔