Sunan Darmi #2529
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الَّذِي لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَهَلا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأَمِّكَ، فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لا"، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:"أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا، فَيَقُولُ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي؟ فَهَلا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَغُلُّ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا، جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً، جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً، جَاءَ بِهَا تَيْعِرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ؟". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبِطَيْهِ. قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَسَلُوهُ.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل کو صدقہ وصول کرنے کی ذمہ داری سونپی، وہ اپنے کام سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے لئے ہے (یعنی بیت المال کی رقم ہے) اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا (مال ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے، پھر دیکھتے تمہیں وہاں بھی ہدیہ ملتا ہے یا نہیں“، پھر شام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد منبر پر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، جتنا ہو سکا الله تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”اما بعد (یعنی حمد و صلاۃ کے بعد) ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں (جزیہ و ٹیکس یا صدقات کی وصولی کے لئے) پھر وہ ہمارے پاس آ کر کہتا ہے یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا، اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہوگی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ اس کی آواز نکل رہی ہوگی، اگر گائے کی خیانت کی ہوگی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آرہی ہوگی، اگر بکری کی خیانت کی ہوگی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آرہی ہوگی، بس میں نے تم کو پہنچا دیا۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اتنے اوپر اٹھائے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے (مزید) کہا: میرے ساتھ یہ حدیث سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، ان سے پوچھ لو۔