Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 19 · Chapter 886

سیر کے مسائل

8. جنگ کرنے سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان

3 hadiths in this chapter

2479

Sunan Darmi #2479

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ: "إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ ثَلاثِ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُمْ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ. فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلامِ، فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ فَعَلُوا، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ. وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَإِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ، وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ، وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ، أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ. وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لا، ثُمَّ اقْضِ فِيهِمْ بِمَا شِئْتَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن بریدہ نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی پلٹن کا سردار بناتے تو اسے وصیت کرتے تھے کہ ”جب تمہاری مشرک دشمن سے ملاقات ہو تو انہیں تین میں سے ایک بات کی دعوت دو، ان تینوں خصلتوں میں سے وہ جو بھی مان لیں اس کو قبول کر لو اور ان سے لڑائی نہ کرو، وہ تین باتیں یہ ہیں: ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر وہ اس پر راضی ہوں تو تم قبول کر لو اور ان سے باز رہو (یعنی ان کے جان و مال کو تلف نہ کرو)، پھر ان سے کہو کہ وہ اپنے ملک سے مہاجرین کے ملک میں منتقل ہو جائیں اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو جو (حق فائدہ) مہاجرین کے لئے ہے وہ ان کو بھی ملے گا، جو سزائیں (قصور کے بدلے) مہاجرین کو دی جاتی ہیں وہی ان کو بھی دی جائیں گی، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کر دیں تو ان کا حکم مسلم دیہاتیوں کا سا ہوگا اور الله کا حکم جو مسلمانوں پر جاری ہوتا ہے وہ ان پر جاری ہوگا اور ان کو مالِ غنیمت یا بلا جنگ کے حاصل شدہ مال میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا سوائے اس حالت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو ان سے کہو کہ جزیہ ادا کریں، اگر وہ جزیہ دینے پر راضی ہوں تو قبول کر لو اور ان سے باز رہو (ان کے قتل یا مال سے کیونکہ وہ ذمی ہو گئے اور ان کا جان و مال محفوظ ہو گیا)، اور اگر وہ جزیہ دینے سے بھی انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کر کے ان سے لڑائی کرو اور اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور قلعہ کے لوگ تم سے الله اور اس کے رسول کا ذمہ طلب کریں (یعنی امان مانگیں) تو اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ نہ دو بلکہ اپنا، اپنے باپ اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دیدو، اس لئے کہ اگر تم اپنا ذمہ یا اپنے باپ دادوں کا ذمہ توڑ ڈالو تو یہ اس سے آسان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ ڈالو، اور اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو پھر قلعہ والے یہ چاہیں کہ اللہ کے حکم پر وہ قلعہ سے نکل آئیں گے تو اس شرط پر انہیں نہ نکالو بلکہ اپنے حکم پر ہی انہیں نکلنے کو کہو، اس لئے کہ تم نہیں جانتے تم اللہ کے حکم پر چل سکو گے یا نہیں، پھر اس کے بعد جس طرح چاہو ان کا فیصلہ کر لو۔“

2480

Sunan Darmi #2480

Sahih

(حديث مرفوع) قَالَ عَلْقَمَةُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ نے کہا: میں نے اس حدیث کو مقاتل بن حیان سے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی حدیث مجھ سے مسلم بن ہیصم نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے بیان کی اور انہوں نے ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔

2481

Sunan Darmi #2481

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: سُفْيَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ يَعْنِي: هَذَا الْحَدِيثَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قوم سے دعوت (اسلام) دینے سے پہلے قتال نہیں کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو سفیان نے ابن ابی نجیح سے نہیں سنا۔ (یعنی یہ روایت منقطع ہے)۔